چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کانگریس کی محاذ آرائی تیز، گرفتاری کے لیے آج ملک بھر میں مظاہرہ

سبھی ریاستی کانگریس کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 25 ستمبر کو اپنے اپنے ریاستی الیکشن کمیشن کے دفاتر تک بڑے احتجاجی مارچ نکالیں اور گیانیش کمار کی فوری گرفتاری کا پرزور مطالبہ کریں۔

<div class="paragraphs"><p>چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار / آئی اے این ایس</p></div>
i

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس جارحانہ رخ اختیار کیے ہوئے ہے۔ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) پر حملہ بولنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے بھی گیانیش کمار کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی پہلے دن سے ہی بی جے پی کے کنٹرول میں کام کرنے والے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں چلائی جا رہی ’بڑے پیمانے پر ووٹ چوری‘ کی مہم کو بے نقاب کر رہے تھے۔

انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے تازہ انکشافات کے بعد کانگریس نے گیانیش کمار کے خلاف اپنی محاذ آرائی تیز کر دی ہے۔ پارٹی نے آج ان کے خلاف سڑکوں پر اتر پر احتجاجی مارچ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملہ میں کے سی وینوگوپال نے بتایا کہ تمام ریاستی کانگریس کمیٹیوں (پی سی سی) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 25 ستمبر (آج) کو اپنے اپنے ریاستی الیکشن کمیشن کے دفاتر تک بڑے احتجاجی مارچ نکالیں۔ وہ ان کی فوری گرفتاری، انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی مدت کار میں کیے گئے تمام فیصلوں اور ووٹر لسٹ میں کی گئی تبدیلیوں کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ کا پرزور مطالبہ کریں۔


احتجاج کے دوسرے مرحلے میں تمام ضلعی کانگریس کمیٹیاں (ڈی سی سی) پیر (28 ستمبر) کو اپنے اپنے ضلع کلکٹریٹ تک اسی طرح کے بڑے احتجاجی مارچ منعقد کریں گی۔ وینوگوپال نے کہا کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹنا ہی ہوگا اور ان کے تمام فیصلوں کو واپس لینا ہوگا۔ جب تک انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں جاتا، جیل نہیں بھیجا جاتا اور ہمارے تمام مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، تب تک ہمارا احتجاج مسلسل جاری رہے گا۔

وینوگوپال نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے کام کاج سے انتخابی عمل کمزور ہو رہا ہے۔ وینوگوپال نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی اس خبر کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹر رجسٹریشن، ناموں کو فہرست سے ہٹانے اور انتخابی اعداد و شمار تک رسائی سمیت ووٹر فہرستوں سے متعلق مختلف فیصلوں پر اعتراضات درج کرائے تھے۔


وینوگوپال نے کہا کہ ہمیں اپنی جمہوریت کی حفاظت کرنی ہے۔ ہم حیران ہیں، ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ایک بڑی خبر شائع کی ہے، جس کا تعلق گوا کے انتخابات سے بھی ہے۔ 2 الیکشن کمشنرز سامنے آئے ہیں اور انہوں نے خط لکھے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو کئی بار یاد دلایا کہ جمہوریت کو تباہ نہ کریں، ووٹر لسٹ کو تباہ نہ کریں اور نئے ووٹرز کو پریشان نہ کریں۔

کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ گوا میں ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے۔ وینوگوپال نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب گوا کے 38 باشندوں نے اپنے نام ہٹائے جانے کے سلسلے میں ریاستی الیکشن کمیشن میں شکایت کی تو اس نے ان کے نام دوبارہ شامل کرنے کی سفارش کی، لیکن الیکشن کمیشن نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیانیش کمار نے اس کی اجازت نہیں دی۔ یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ بی جے پی ووٹر لسٹ کے ذریعہ کیا کر رہی ہے۔ وینوگوپال نے الزام لگایا کہ ایسا پورے ملک میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی مسلسل کہتے رہے ہیں کہ سی ای سی وزیر اعظم مودی کے ایجنٹ کی طرح کام کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے الیکشن کمشنرز کے تبصروں سے یہ الزام درست ثابت ہوا ہے۔


کے سی وینوگوپال نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ہندوستانی انتخابی نظام کو اپنے کنٹرول میں لینے کی سازش کی۔ انتخابی افسران یا ریاستی الیکشن کمیشن کے پاس ووٹر لسٹ تک رسائی نہیں ہے، کیونکہ ان لسٹس کو دہلی میں واقع الیکشن کمیشن کا آئی ٹی محکمہ کنٹرول کرتا ہے۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ان لسٹس میں مرکزی سطح پر ہیرا پھیری کی جا سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔