کسانوں کے مسئلہ پر کانگریس ثابت قدم رہے گی: سونیا گاندھی

سونیا گاندھی نے کہا کہ کسان اپنے مطالبات کے حق میں گزشتہ 13 مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت نے ان کی باتوں پر کان دھرے بغیر اور ان کی بات سنے بغیر زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو واپس لے لیا۔

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں کے مسئلہ پر سنجیدہ نہیں ہے لیکن کانگریس کسانوں کے ہر مسئلہ پر ان کے ساتھ کھڑی ہے اور کسانوں کے مطالبے کے لئے سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑے گی۔

بدھ کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے سینٹرل ہال میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ حکومت نے زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو غیر جمہوری طور پر واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے مطالبات کے حق میں گزشتہ 13 مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت نے ان کی باتوں پر کان دھرے بغیر اور ان کی بات سنے بغیر زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو واپس لے لیا۔


انہوں نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری احتجاج کے دوران 700 سے زائد کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان کی پارٹی مرنے والے کسانوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے لیکن حکومت کسانوں کے تئیں بے حس ہے اور ان کی ایک بھی بات نہیں سن رہی ہے۔

کانگریس صدرنے کہا کہ ان کی پارٹی کسانوں کے حقوق کے لیے مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی کم از کم امدادی قیمت- ایم ایس پی پر ان کی لڑائی لڑتی رہے گی تاکہ انہیں فصلوں کی مناسب قیمت اور دیگر مسائل حل ہوسکے۔


انہوں نے کہا کہ کانگریس نے مانسون اجلاس کے ساتھ ساتھ اس بار بھی پارلیمنٹ میں کسانوں کا مسئلہ اٹھایا ہے اور جب سے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوا ہے، پارٹی کسانوں کے مفاد میں مسلسل آواز اٹھا رہی ہے لیکن حکومت گونگی بنی ہوئی ہے۔ ان کے اشوز پر توجہ نہیں دے رہی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔