کانگریس کا وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ، رام مندر میں نذرانہ کی چوری پر جواب دینے کا مطالبہ
کانگریس نے رام مندر میں نذرانہ کی چوری کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے مندر کی تعمیر کا سہرا لیا تھا تو اب نذرانہ کی چوری پر بھی انہیں جواب دہی کرنی ہوگی

نئی دہلی: کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں نذرانہ کی چوری کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس پورے معاملے کی حقیقت کو عوام سے چھپایا جا رہا ہے۔ پارٹی کی ترجمان راگنی نائک نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں شفافیت اختیار کرنے کے بجائے ذمہ دار افراد کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام کو اب تک سچائی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
راگنی نائک نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ رام مندر میں 40 دن کے اندر 70 مرتبہ چوری کے واقعات پیش آئے، لیکن اس سلسلے میں تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور رپورٹ کو عوام سے کیوں چھپایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر کی تعمیر کا بھرپور سیاسی سہرا لیا تھا، لیکن اب نذرانہ کی چوری کے معاملے پر خاموش ہیں۔ ان کے مطابق جب تعمیر کا کریڈٹ لیا گیا ہے تو نذرانہ کی چوری کی ذمہ داری بھی قبول کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے اعتماد کے ساتھ دھوکہ ہے اور وزیر اعظم کو ملک کے سامنے آ کر اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ مندر میں ملک کے غریب سے غریب اور امیر سے امیر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق نذرانہ پیش کیا تھا، اس لیے یہ کسی ایک فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کے جذبات اور عقیدت سے جڑا معاملہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض افراد اسے اندرونی معاملہ قرار دے کر نمٹانے کی بات کر رہے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔
راگنی نائک نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پہلے سے موجود شنکراچاریوں کے ٹرسٹ کے باوجود حکومت نے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ قائم کیا، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ افراد کو شامل کیا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ اس ٹرسٹ کو حق اطلاعات قانون کے دائرے سے بھی باہر رکھا گیا، جس کے باعث اس کے کام کاج میں شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ افراد چندہ دینے والوں سے ایسے حلف ناموں پر دستخط بھی کراتے ہیں جن کے مطابق نذرانہ جمع ہونے کے بعد ٹرسٹ اس کا کسی بھی طرح استعمال کر سکتا ہے اور اس پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام معاملات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔
کانگریس نے مطالبہ کیا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے، اس کے مالی معاملات کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جائے، خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ عوام کے سامنے جاری کی جائے، وزیر اعظم نریندر مودی اپنی خاموشی توڑیں اور رام مندر کی تعمیر سے پہلے جمع کیے گئے تقریباً چودہ سو کروڑ روپے کے چندے کا مکمل حساب بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ پارٹی کے ان الزامات پر حکومت یا متعلقہ ٹرسٹ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
