کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ، ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار
کانگریس نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی بتایا اور کہا کہ عالمی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے بدھ کے روز امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے ممکنہ کردار کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی ہے اور اسے حکومت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک سنگین جھٹکا قرار دیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ اس پیش رفت نے نہ صرف ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی پر سوال کھڑے کیے ہیں بلکہ حکومت کے دعوؤں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بعد امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا عالمی سطح پر محتاط خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تنازع 28 فروری کو ایران میں اعلیٰ حکام کی ٹارگیٹڈ ہلاکتوں سے شروع ہوا تھا، جو وزیر اعظم مودی کے اسرائیل دورے کے فوراً بعد پیش آیا۔ ان کے مطابق اس دورے نے ہندوستان کی عالمی شبیہ کو بہتر بنانے کے بجائے نقصان پہنچایا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم مودی نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مغربی کنارہ میں اس کی پالیسیوں پر خاموشی اختیار کی، جو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے رویے کے خلاف ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کی خبریں مودی حکومت کی “ذاتی نوعیت کی سفارت کاری” کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔
کانگریس رہنما نے مزید الزام لگایا کہ مودی حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد اس سمت میں مؤثر اقدامات کیے تھے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت دنیا کو یہ باور کرانے میں بھی ناکام رہی کہ پاکستان دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے اور ایک ناکام ریاست کی مثال ہے۔
جے رام رمیش نے پاکستان کی معاشی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک جو بیرونی امداد پر منحصر ہے اور معاشی طور پر کمزور ہے، وہ اگر اس طرح کی سفارتی پیش رفت میں کردار ادا کر رہا ہے تو یہ ہندوستانی خارجہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
انہوں نے ’آپریشن سندور‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ 10 مئی 2025 کو اس کارروائی کو اچانک کیوں روک دیا گیا، جبکہ اس کا اعلان سب سے پہلے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر اس کا کریڈٹ بار بار لیتے رہے ہیں، جس پر ہندوستانی قیادت کی خاموشی تشویشناک ہے۔
آخر میں جے رام رمیش نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے پاکستان کو ’دلال‘ کہا تھا، اور کہا کہ موجودہ صورتحال نے حکومت کے تمام دعوؤں کو کمزور کر دیا ہے۔ کانگریس کے مطابق یہ معاملہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔