تمل ناڈو اسمبلی انتخابات: کانگریس نے اپنی فہرست کی جاری، 27 امیدواروں کا اعلان
کانگریس نے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے لیے 27 امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ فہرست میں اہم اور محفوظ نشستوں پر نامزدگیاں شامل ہیں، جس سے انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس نے اپنی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے ساتھ ہی ریاست میں انتخابی سرگرمیوں نے مزید رفتار پکڑ لی ہے۔ پارٹی کی مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے حتمی شکل دی گئی اس فہرست میں 27 امیدواروں کے نام شامل ہیں، جو مختلف اہم اور محفوظ حلقوں سے میدان میں اتارے گئے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنی تیاریوں کو آخری مرحلے میں پہنچا رہی ہیں اور ریاست میں سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔
کانگریس کی اس فہرست میں پونیری (ایس سی) سے دورئی چندر شیکھر، ویلاچیری سے جے ایم ایچ احسان مولانا، سری پیرمبدور (ایس سی) سے کے سیلواپرونتھگئی اور شولنگر سے اے ایم منیرتھینم کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ اسی طرح اٹانگاری (ایس سی) سے آر کپو سامی، کرشناگیری سے ڈاکٹر اے چیلا کمار اور پیناگارہ سے جی کے ایم تمل کمارن کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ایروڈ (ایسٹ) سے گوپیناتھ پلانی یپن اور ادھاگامندلم سے بی رام چندرن بھی نمایاں ناموں میں شامل ہیں۔
دیگر حلقوں میں کاوندامپالیم سے کے پی سوریا پرکاش، سنگنلور سے مس وی شرینتھی نائیڈو، تھورائیور (ایس سی) سے ایم وچو لینن پرسات اور کڈلور سے اے ایس چندر شیکھرن کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ مئیلادوتھرئی سے جمال یونس محمد، ارنتھانگی سے ٹی راما چندھرن، کارائیکوڈی سے ایس منگودی اور اسیلامپٹی سے ٹی سروانا کمار بھی کانگریس کے امیدوار ہوں گے۔ اسی طرح سیواکاسی سے گنیسن اشوکن اور ترووادانا سے راما کرومانیکم کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
پارٹی نے سریویکنٹم سے ایس اورواشی امریتھاراج، شنکرن کوول (ایس سی) سے سنگائی گنیشن، امباسمدرم سے وی پی دورئی، ننگونیری سے روبی منوہرن اور کولاچل سے ڈاکٹر تھارگئی کُتھبرٹ کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔ ولاوانکوڈ سے ٹی ٹی پروین اور کلیور سے ایڈوکیٹ ایس راجیش کمار بھی انتخابی میدان میں ہوں گے۔
اس فہرست کے اجرا سے واضح ہے کہ کانگریس ریاست میں اپنے اتحادی ڈھانچے کے اندر مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مختلف طبقات اور علاقوں کو نمائندگی دے کر پارٹی نے توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ امیدواروں کے انتخاب میں تجربہ اور مقامی اثر و رسوخ کو اہمیت دی گئی ہے، جس سے انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔
ادھر بی جے پی کی جانب سے بھی امیدواروں کا اعلان کیے جانے کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ تیز ہو گیا ہے۔ انتخابی مہم اب اپنے عروج کی جانب بڑھ رہی ہے اور تمام پارٹیاں ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے سرگرم نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں کانگریس کی یہ فہرست نہ صرف اس کی حکمت عملی کی عکاس ہے بلکہ آنے والے دنوں میں انتخابی منظرنامے کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔