اندور میں پانی بحران پر کانگریس کا احتجاج، مٹکے پھوڑ کر نعرے بازی، شدید تحریک کا انتباہ
اندور میں پانی بحران کے خلاف کانگریس نے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مٹکے پھوڑ کر انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے اور پانی مسئلہ حل نہ ہونے پر شدید تحریک چلانے کی وارننگ دی

اندور میں پانی بحران کو لے کر کانگریس نے شہر انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ کانگریس کارکنان نے اپنے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں شہر کے مختلف زون دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے اور مٹکے پھوڑ کر ناراضگی ظاہر کی۔ زون۔5 کے علاقے سکھلیا چوراہے پر پانی ٹنکی کے قریب کانگریس کونسلر راجو بھدوریا کی قیادت میں مقامی رہائشیوں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔
مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے افسروں، رکن اسمبلی، میئر اور ایڈیشنل کمشنر کو خبردار کیا کہ اگر پانی بحران کا جلد حل نہیں نکالا گیا تو آئندہ مزید سخت اور شدید تحریک شروع کی جائے گی۔ خواتین نے بھی احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے مٹکے پھوڑے اور پانی فراہمی کے نظام کے خلاف غصے کا اظہار کیا۔
شہر کانگریس صدر چنٹو چوکسے نے الزام لگایا کہ میونسپل کارپوریشن کی لاپروائی کے سبب اندور شدید پانی بحران سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق شہر کی تقریباً آدھی آبادی تک نرمدا کا پانی نہیں پہنچ رہا، جبکہ جن علاقوں میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے وہاں بھی مناسب دباؤ اور مطلوبہ وقت تک سپلائی نہیں مل رہی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی علاقوں میں اب بھی گندا پانی سپلائی ہونے کی شکایت برقرار ہے۔ چنٹو چوکسے نے کہا کہ متعدد اموات کے واقعات سامنے آنے کے باوجود انتظامیہ نے صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر قدم نہیں اٹھائے۔
کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے میونسپل نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے کی حکمرانی کے باوجود شہر کے ہر گھر تک نرمدا کا پانی پہنچانے کا وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نرمدا منصوبے کے تیسرے مرحلے کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ سن 2040 تک کی آبادی کے لیے پانی کی مناسب فراہمی یقینی بنائی جائے گی، لیکن موجودہ صورتحال میں سن 2026 کی ضروریات بھی پوری نہیں ہو پا رہیں۔
کانگریس نے یہ الزام بھی لگایا کہ جن علاقوں میں نرمدا پائپ لائن نہیں پہنچی وہاں لوگ بورنگ کے پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ شدید گرمی کے باعث کئی بورنگ خشک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد جگہ موٹر خراب پڑی ہیں۔ پارٹی کے مطابق میونسپل کارپوریشن نے موٹر مرمت کا کام صرف ایک ٹھیکیدار کو دے رکھا ہے، جس کے باعث مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔
پارٹی نے پانی تقسیم کے نظام میں بھی امتیاز کا الزام لگایا۔ کانگریس کے مطابق کچھ اہم علاقوں میں زیادہ دباؤ اور طویل وقت تک پانی سپلائی کیا جا رہا ہے جبکہ عام شہری پانی کے لیے پریشان ہیں اور مہنگے نجی ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
