قومی

گزشتہ چار سالوں میں عدم رواداری عروج پر: راہل گاندھی

آئی ایم ٹی دبئی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’ہندوستان کی دنیا میں کافی قدر ہے۔ اگر ہندوستان میں موقع ملتا ہے تو لوگ واپس لوٹ آئیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو برین ڈرین ایک مسئلہ ہے۔‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

راہل گاندھی اس وقت متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں جہاں آج انہوں نے تعلیم حاصل کرنے رہے نوجوان طبقہ سے خطاب کیا۔ آئی ایم ٹی دبئی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے طلبا کے سوالوں کا جواب دیا۔

برین ڈرین (ملک کے قابل لوگوں کو بیرون ملک ہجرت کر جانا) پر کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے کہا کہ یہ 20ویں صدی کا مسئلہ اور آج 21ویں صدی میں یہ دوسری طرح سے کام کر رہا ہے اور آج لوگ آسانی سے کسی بھی ملک میں آ جا سکتے ہیں لہذا انہیں جہاں بھی بہتر موقع ملتا ہے وہ جا سکتے ہیں۔

’’ہندوستان نے نظریات کو بنایا اور نظریات نے ہندوستان کی تعمیر کی۔ دوسروں کو سننا بھی ہندوستان کا نظریہ ہے۔‘‘

انہوں نے نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ ہمیں برین ڈرین سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ ہمیں یہ یقینی بنانا چاہئے کہ اپنے ملک میں ہی بہتر مواقع موجود رہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’جب آپ بیرن ملک رہتے ہیں تو آپ اپنے ملک کے امبیسڈر بن جاتے ہیں۔ ہندوستان کی دنیا میں کافی قدر ہے۔ اگر ہندوستان میں موقع ملتا ہے تو لوگ واپس لوٹ آئیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو برین ڈرین ایک مسئلہ ہے۔‘‘

’’ہندوستان بھوک جیسے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے ایسے حالات میں کھیل کو اولین ترجیح دینا مشکل ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کا نظام تعلیم اپنے آپ میں منفرد ہے لیکن کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں دور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اسے کی حکومت کے دوران طلبا کی نامزدگیوں میں کثیر تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں سے ہندوستان میں عدم رواداری کا ماحول رہا۔ جس طرح کا ماحول بنا دیا گیا وہ قطعی مناسب نہیں تھا۔ ایسے حالات میں ملک کس طرح سے متحد رہے اس پر زور دئے جانے کی ضرورت ہے۔

’’عالمی پس منظر میں ہندوستان میں طبی خدمات میں وسیع تر امکانات موجود ہیں۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ ہمیں ایسا ہندوستان نہیں چاہئے جہاں صحافیوں کو گولی ماری جاتی ہے اور لوگوں کو اپنی بات کہنے پر زد و کوب کیا جاتا ہے۔ اگلے انتخابات میں یہی حقیقی چیلنج ہے۔ راہل گاندھی نے کہاکہ 10-15 بڑی کمپنیوں پر توجہ مرکوز کرنے آگے بڑھ کر آج ہزاروں چھوٹی اور متوسط صنعتوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔

’’ہمارے پاس اس سیارہ کا سب سے بڑا جنیٹک ادارہ ہے اور اگلے 10 سے 15 سال میں علاج اور طبی خدمات کا یہی روپ ہونے جا رہا ہے۔‘‘

قبل ازیں جمعہ کے روز راہل گاندھی نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المختوم سے ملاقات کے اور ہندوستان اور امارت کے درمیان مضبوط باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔