مظاہرین طلبہ پر لاٹھی چارج کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ’جمہوریت پر حملہ‘ قرار دیا

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’مودی حکومت سے کوئی بھی مسئلہ ٹھیک سے حل نہیں ہو پا رہا ہے، ایسے میں انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس اور سماجوادی پارٹی (ایس پی) سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں نے نیٹ-یو جی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور رام مندر میں عطیات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات کا معاملہ اٹھایا۔ اپوزیشن لیڈران نے ان معاملات پر حکومت سے جواب اور جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت طلبہ کے تئیں غیر حساس رویہ اپنا رہی ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اگر حکومت امتحانات کا شفاف اور منظم انعقاد نہیں کرا پا رہی ہے، تو اس کی ذمہ داری کسی اہل ادارے کو سونپ دینی چاہیے۔ انہوں نے طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت سے کوئی بھی مسئلہ ٹھیک سے حل نہیں ہو پا رہا ہے، ایسے میں انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔


ملکارجن کھڑگے نے رام مندر میں عطیات سے منسلک مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس معاملے میں شفافیت ضروری ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔‘‘ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی ملکارجن کھڑگے کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں وہ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’نریندر مودی صرف دوسروں کا قصور نکالتے رہتے ہیں، لیکن آج تک خود ملک کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایک طرف تو نریندر مودی کے بنائے ہوئے ٹرسٹ میں انہی کے منتخب کردہ لوگ ’عطیات چوری‘ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف لاکھوں طلبہ پریشان ہیں، ان کی زندگی برباد ہو رہی ہے۔ ان سب کے ذمہ دار نریندر مودی اور ان کی حکومت ہیں۔‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا نے کہا کہ پورا اپوزیشن ایوان میں پیپر لیک کے معاملے پر بحث اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ انہوں نے رام مندر میں عطیات سے جڑے مبینہ الزامات پر بھی حکومت سے وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔


کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کی مبینہ ناکامیوں کے لیے جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر میں عطیات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات پر بھی پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے، تاکہ متعلقہ فریق اپنا موقف پیش کر سکیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت بحث کی اجازت دیتی ہے تو ایوان کی کارروائی پرامن طریقے سے چل سکتی ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ ان کی پارٹی گزشتہ کئی مہینوں سے ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت نیٹ امتحان کا معاملہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ ان موضوعات پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ تھرور نے الزام عائد کیا کہ حکومت بحث سے بچ رہی ہے، جبکہ جمہوریت میں پارلیمنٹ کا مقصد اہم قومی مسائل پر کھلی بحث کرنا ہے۔ حکومت کے پاس اکثریت ہے، اس لیے اسے بحث سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والے مبینہ لاٹھی چارج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ ’’اگر احتجاج پرامن تھا تو طاقت کا استعمال سمجھ سے باہر ہے اور یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔