کانگریس صدر کھڑگے نے پڈوچیری میں بی جے پی-آر ایس ایس پر کیا شدید حملہ، مکمل ریاستی درجہ دینے کا وعدہ دہرایا
ملکارجن کھڑگے نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ڈرگ مافیا کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پوری نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے، جس کی ذمہ داری ’ڈبل انجن‘ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

مرکز کے زیر انتظام خطہ پڈوچیری میں آئندہ 9 اپریل کو اسمبلی انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونی ہے۔ آج یہاں کانگریس کے لیے انتخابی تشہیر کی ذمہ داری صدر ملکارجن کھڑگے نے سنبھالی اور بی جے پی و آر ایس ایس پر شدید حملہ کیا۔ انھوں نے پڈوچیری کے اناتھیڈل میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور اس کی حامی جماعتیں ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام خطوں کے حقوق کو پامال کرتی ہیں۔
کانگریس صدر نے عوام لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پڈوچیری کو مکمل اختیارات ملنے چاہئیں کیونکہ لیفٹیننٹ گورنر منتخب حکومت کے معاملات میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں۔ کھڑگے نے اسے کانگریس کی ’پہلی گارنٹی‘ قرار دیا اور کہا کہ پارٹی پڈوچیری کو مکمل ریاستی درجہ دلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ پڈوچیری اس وقت 30 فیصد بدعنوانی و کمیشن خوری کا شکار ہے، ساتھ ہی اے آئی این آر سی اور بی جے پی کی حکومت اس خوبصورت خطے کو لوٹ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مختلف پروجیکٹس کا خرچ بڑھا کر دکھایا جا رہا ہے، فنڈز کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔
ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانے پر لیا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا وعدہ کیا تھا، لیکن زمین سے لے کر آسمان تک، ایئرپورٹس سے بندرگاہوں تک سب کچھ ایک ہی شخص گوتم اڈانی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ این ڈی اے حکومت عوامی املاک اور مذہبی زمینوں تک کو ہضم کر رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں اے آئی این آر سی-بی جے پی حکومت نے 450 سے زائد شراب کی دکانیں اور ریسٹورنٹس کھولے، دوسری طرف عوام کو صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق ریاست میں سرمایہ کاری صرف شراب کی فیکٹریوں تک محدود ہو گئی ہے۔
کانگریس صدر نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ڈرگ مافیا کی سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے پوری نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے، جس کی ذمہ داری ’ڈبل انجن‘ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے پڈوچیری میں کانگریس کی حکومت کو یاد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پڈوچیری کی اصل ترقی کانگریس دور میں ہوئی، جب فلاحی اسکیمیں شروع کی گئیں، اسپتال، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے انہی منصوبوں کے نام بدل کر اپنا کریڈٹ لینے کی کوشش کی، اور یہی ’مودی اسٹائل‘ ہے۔ مودی اسٹائل کا مطلب اصل توجہ عوامی فلاح کے بجائے تشہیر پر دیا جانا ہے۔
کھڑگے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت کے دوران راشن کی دکانیں قائم کی گئیں، طلبا کو مفت تعلیم، یونیفارم، سائیکل، ناشتہ اور مڈ ڈے میل فراہم کیا گیا، کسانوں کو آبی وسائل کے بہتر انتظام اور بجلی کی فراہمی سے فائدہ پہنچا۔ آج پڈوچیری کے عوام کی صحت، بچوں کا مستقبل اور سلامتی خطرے میں ہے اور بدعنوانی ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھیں اور اس کا استعمال دانشمندی سے کریں۔
کھڑگے نے کانگریس کی جانب سے پڈوچیری کے لیے متعدد گارنٹیوں کا اعلان بھی کیا، جن میں پرائمری سے لے کر ریسرچ سطح تک مفت تعلیم، سرکاری و نجی کالجوں کے طلبہ کو ماہانہ 2000 روپے وظیفہ، تمام خاندانوں کو ہر ماہ 2500 روپے مالیت کا راشن، شادی شدہ خواتین کے لیے سونے کی سبسڈی اور پڈوچیری کو مکمل ریاستی درجہ دلانے کا وعدہ شامل ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔