کرناٹک LIVE: جمہوریت کے قتل کے خلاف ہم متحد ہیں، کانگریس

ہریانہ کے نوح میں احتجاجی مظاہرہ

ہریانہ میں کانگریس پارٹی نے نوح (میوات) ضلع ہیڈکواٹر پر بی جے پی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ کی قیادت کانگریس پارٹی کے سابق وزیر آفتاب احمد نے کی۔ اس موقع پر کرناٹک میں بی جے پی کے ذریعے بغیر اکثریت کے سرکار بنانے کو غیر قانونی قرار دیا۔ یدی یورپا 24 گھنٹے میں عدالت کے ذریعے دیے گئے اکثریت ثابت کرنے کے حکم نامہ کا سابق وزیر آفتاب احمد نے خیر مقدم کیا۔

جمہوریت کے قتل کے خلاف ہم متحد ہیں: کانگریس

کرناٹک کے گورنر کے فیصلے کے خلاف کانگریس آج ملک گیر یو تحفظ جمہوریت منا رہی ہے۔ کانگریس کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے:

  • بی جے پی تمام آئین اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے اکثریت کا ہدف نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کر رہی ہے۔
  • تمام ادارے بی جے پی-آر ایس ایس نظریات نے اغوا کر لئے ہیں۔
  • بی جے پی کے مفاد میں سرکاری مشینری کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹوئٹ میں مزید لکھا ہے، ’’ہم کرناٹک میں بی جے پی کی طرف سے کئے گئے جمہوریت کے قتل اور آئینی اقدار کی خلاف ورزی کے خلاف متحد ہیں۔‘‘

دہلی میں دھرنے پر بیٹھے کانگریس رہنما

کانگریس کے یوم تحفظ جمہوریت پر ملک بھر میں پارٹی رہنما اور کارکنان دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔

ارکان اسمبلی کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے: کانگریس

کرناٹک کانگریس کے تمام ارکان اسمبلی کے ساتھ حیدرآباد پہنچنے پر کانگریس رہنما ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ ’’تمام ارکان اسمبلی متحد ہیں، مختلف ایجنسیوں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن ہم جد و جہد جاری رکھیں گے۔ ہمیں گزشتہ رات چارٹر طیارہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘

کانگریس ارکان اسمبلی حیدرآباد پہنچے

بی جے پی کی طرف سے کی جا رہی ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کے لئے کانگریس اور جے ڈی ایس پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں کانگریس کے تمام ارکان اسمبلی کو حیدرآباد پہنچا دیا گیا ہے۔ ارکان اسمبلی یہاں کے تاج کرشنا ہوٹل میں ٹھہریں گے، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اتم کمار ریڈی بھی ان کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔

کانگریس کا ’یوم تحفظ جمہوریت‘ منانے کا اعلان

کرناٹک میں جاری سیاسی رسہ کشی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یدی یورپا وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے چکے ہیں لیکن ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ بی جے پی مطمئن ہے کہ گیند اس کے پالے میں ہے۔ لیکن کانگریس بھی ہار نہیں مان رہی اور کسی نہ کسی طرح سے بی جے پی کا پردہ فاش کر رہی ہے۔

کرناٹک میں سب سے بڑی پارٹی کو گورنر وجو بھائی والا کی طرف سے حکومت سازی کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ اس پر کانگریس نے گوا، منی پور اور میگھالیہ میں حکومت سازی کا دعوی کیا ہے جہاں وہ سب سے بڑی پارٹی ہے۔ کانگریس نے یدی یورپا کی حلف برداری کو جمہوریت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے اور اس کی مخالفت میں ملک بھر میں 18 مئی کو ’یوم تحفظ جمہوریت‘ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

’یوم تحفظ جمہوریت‘ کے تحت آج کانگریس کے رہنما اور کارکنان ملک بھر کے ریاستی صدر دفاتر اور ضلعی دفاتر پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرہ کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا کے خلاف ہے جنہوں نے کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کو اکثریت ہونے کے باوجود بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دے دی۔

اس سے قبل 17 مئی کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی سی سی میڈیا سیل کے انچارج رندیپ سرجے والا نے 18 مئی کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو کچھ بھی کرناٹک میں ہوا ہے وہ جمہوریت کے خلاف ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ’’انڈین نیشنل کانگریس نے فیصلہ کیا ہے کہ گورنر کے فیصلے کے خلاف 18 مئی کو ملک بھر میں ’یوم تحفظ جمہوریت‘ منائیں گے اور احتجاجی مظاہرے کریں گے۔‘‘ 17 مئی کو بھی کانگریس کارکنان نے ملک کے مختلف مقامات پر کرناٹک کے گورنر کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول