فتح پور سیکری میں راہل-پرینکا نے ’نیائے یاترا‘ کو دکھائی ہری جھنڈی، لگے مودی مخالف نعرے

یو پی کے فتح پور سیکری میں کانگریس صدر راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ’نیائے یاترا‘ کو ہری جھنڈی دکھائی۔ یہ یاترا ان علاقوں سے نکلے گی جہاں آئندہ مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے فتح پور سیکری میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ اس سے قبل راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے ’نیائے یاترا‘ کو ہری جھنڈی دکھائی۔ اس موقع پر پی ایم مودی کے خلاف خوب نعرے بھی مقامی لوگوں نے لگائے۔ یہ یاترا ان سبھی علاقوں سے نکالی جائے گی جہاں آئندہ مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس یاترا کا مقصد ہر گاؤں اور ہر گھر تک ’نیائے‘ کو پہنچانا ہے۔

اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’2014 میں نریندر مودی نے تین وعدے کیے تھے۔ ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا۔ کسانوں اور لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے پی ایم بنا دو میں سبھی کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے بھیج دوں گا۔ لیکن مودی نے عوام سے جھوٹ بولا۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’مودی نے عوام سے 15 لاکھ روپے دینے کا جھوٹ بولا، لیکن ہم آپ کو اب ’نیائے‘ دیں گے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مرکز میں حکومت بننے کے بعد ہم ’نیائے‘ منصوبہ نافذ کریں گے اور ہر غریب کو 72 ہزار روپے سالانہ دیں گے۔

راہل گاندھی نے ’نیائے‘ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’72 ہزار کروڑ روپے ہم نے ہندوستان کے کسانوں کا معاف کر کے دے دیا۔ ہم نے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کسانوں کی قرض معافی کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت بنتے ہی دو دن کے اندر ہم نے اپنے وعدے کو پورا کر دیا۔ اب ہم نیائے منصوبہ نافذ کر کے دکھائیں گے۔‘‘

تقریر کے دوران راہل گاندھی نے بی جے پی سے سوال پوچھا کہ آخرانتخاب میں اتنے پیسے خرچ کرنے کے لیے کہاں سے آ رہا ہے؟ انھوں نے کہا کہ ٹی وی آن کیجیے، ریڈیو آن کیجیے... ہر جگہ آپ کو نریندر مودی دکھائی اور سنائی دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ بی جے پی اتنے پیسے لاتی کہاں سے ہے، وہ بتاتی کیوں نہیں ہے۔

فتح پور سیکری میں راہل-پرینکا نے ’نیائے یاترا‘ کو دکھائی ہری جھنڈی، لگے مودی مخالف نعرے

کانگریس صدر نے روزگار سے متعلق اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’مرکز میں کانگریس کی حکومت بنتے ہی ایک سال کے اندر ہم 22 لاکھ خالی پڑی سرکاری ملازمتوں کے عہدوں کو ہم بھر کر دکھائیں گے۔ ہم دیہی علاقوں میں 10 لاکھ نوجوانوں کو ملازمت دیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ملک میں بے روزگاری 45 سال کے سب سے برے دور میں ہے۔ پانچ سالوں میں مودی حکومت نے روزگار دینے اور بے روزگاری گھٹانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔‘‘

اس دوران پارٹی کے انتخابی منشور کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا ہے کہ قرض لینے کے معاملے میں اب کسانوں کو جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ کسان اس ملک کی جان اور طاقت ہیں۔ کسان اس ملک کی شان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ کسانوں کے لیے ہم الگ سے بجٹ لائیں گے۔ الگ سے بجٹ لانے سے ساری چیزیں صاف اور شفاف ہو جائیں گی۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری حکومت آئی تو ہم کئی بڑے منصوبوں کو لے کر آئیں گے، جس سے عوام کوفائدہ ہوگا۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ آپ کے مفاد میں کام کیا ہے، آپ کو بچایا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مجاہدین آزادی کی بے عزتی کرنا بند کریں۔ اگر پی ایم مودی حب الوطن ہیں تو ملک کی بات کریں۔ مودی جی! آپ ہندوستان کے کسانوں، نوجوانوں، خواتین کی بات کیجیے، انتخابات کے وقت پاکستان کی بات مت کیجیے۔ ملک کے نوجوانوں کی آواز کیوں نہیں سنتے؟ عوام کی بات کیوں نہیں سنتے؟ عوام کی آواز کیوں دباتے ہیں؟ آپ بتائیے عوام کے لیے کیا کیا۔ اصلی حب الوطنی سچ کے راستے سے نہیں بھٹکتا ہے۔ قوم کی بات کریں۔ بیانوں میں ملک کا تذکرہ کیوں نہیں کرتے، کیوں پاکستان پر بیان دیتے رہتے ہیں۔‘‘

پرینکا گاندھی نے پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’اگر آپ حب الوطن ہیں تو ننگے پاؤں چل کر آپ کے دروازے تک آنے والے کسانوں سے کیوں نہیں ملے، آپ کے ساتھی نے کسی خاتون کے خلاف بیان دیا، تو آپ نے اسے اس ملک کی تہذیب کیوں نہیں سکھائی۔ اس جمہوریت کی عزت کیوں نہیں کرتے جن کی وجہ سے آپ کو اقتدار حاصل ہوا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی والے نقلی حب الوطن ہیں۔ آج کسان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، آلو کسان بے حال ہیں۔ جب اسٹوڈنٹس، کسانوں، اساتذہ یا سماج کے کسی بھی طبقے نے اپنے حق اور اختیار کی مانگ کی تو انھیں پیٹا گیا۔ ان کے خلاف معاملے درج کیے گئے۔ انھیں غدار وطن بتا دیا گیا، ان سے کہا کہ آپ سوال پوچھتے ہیں تو آپ غدار وطن ہیں۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری جیوترادتیہ سندھیا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے لوگ پریشان رہے لیکن پی ایم مودی جی پانچ سالوں تک دوسرے ممالک کا سفر طے کرتے رہے۔ پی ایم مودی کے پاس کسانوں اور غریبوں کے گھروں میں جانے کا وقت نہیں ہے، لیکن انھیں پاکستان میں جا کر بریانی کھانے میں کوئی پریشانی نہیں۔