ملکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں کی ’سی اے پی ایف بل 2026‘ کی مخالفت، 4 اہم خامیوں کو رکھا سامنے
کھڑگے نے خطاب کے دوران کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے سی اے پی ایف بل 2026 کو تفصیلی جانچ کے لیے سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دینا چاہیے۔ ہم اپنے جانباز سی اے پی ایف اہلکاروں کے حق میں یہ بات کہہ رہے ہیں۔‘‘

راجیہ سبھا میں ’سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (جنرل ایڈمنسٹریشن) بل 2026‘ پر بحث کے دوران کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے خطاب کے دوران کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے سی اے پی ایف بل 2026 کو تفصیلی جانچ کے لیے سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دینا چاہیے۔ ہم اپنے جانباز سی اے پی ایف اہلکاروں کے حق میں یہ بات کہہ رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بل کی 4 اہم خامیوں کو سامنے رکھا ہے۔ انھوں نے بل کی مخالفت کرنے کی 4 اہم وجوہات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر بھی کیا ہے۔
کانگریس صدر کے مطابق بل کی مخالفت کرنے کی پہلی وجہ ’ڈیپوٹیشن کا ادارہ جاتی بنانا ‘ ہے۔ آئی جی، اے ڈی جی اور خاص طور پر ایس ڈی جی اور ڈی جی جیسے اعلیٰ عہدوں پر ڈیپوٹیشن کوٹہ مقرر کر کے، یہ بل ڈیپوٹیشن کو مستقل بنا دیتا ہے۔ اس سے سی اے پی ایف کیڈر افسران کے لیے قیادت کے مواقع محدود ہوتے ہیں اور ایک غیر مساوی سروس ڈھانچے کو مضبوطی ملتی ہے۔ دوسری وجہ ہے ’کیریئر کی ترقی اور حوصلے پر منفی اثر۔‘ یہ سخت دیپوٹیشن فریم ورک، پرموشن کے مواقع کو محدود کرتا ہے اور سی اے پی ایف افسران کے کیریئر میں جمود کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے ان مسلح افواج کے حوصلے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے جو ملک میں داخلی سلامتی بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سے اے پی ایف بل کی مخالفت کرنے کی تیسری وجہ کانگریس صدر نے ’مشاورت اور نمائندگی کی کمی‘ بتائی۔ یہ بل سی اے پی ایف کے لوگوں سے مناسب مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں پالیسی سازی یا کیڈر مینجمنٹ میں کوئی بامعنی کردار فراہم کرتا ہے، جب کہ اس کے التزامات سے وہ براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے بل کی مخالفت کی چوتھی وجہ یہ بتائی کہ اس کے اندر ’عدالتی ہدایات کی روح کی خلاف ورزی‘ کی گئی ہے۔ یہ بل ’سنجے پرکاش بمقابلہ یونین آف انڈیا‘ میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی طرف سے دی گئی ہدایات کے برعکس ہے، جس میں سی اے پی ایف افسران کو ’آرگنائزڈ گروپ اے سروسز‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا اور ڈیپوٹیشن کو کم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان ہدایات کو نافذ کرنے کے بجائے، یہ بل سپریم کورٹ کے احکامات کو مؤثر طریقے سے کمزور کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا میں ’سی اے پی ایف بل 2026‘ پاس ہو چکا ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ راجیہ سبھا سے نکلتے وقت اپوزیشن لیڈران ’فوجی مخالف – مودی حکومت‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ کانگریس نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت اکثریت کے دَم پر سی اے پی ایف جوانوں کے حقوق کو روند رہی ہے۔ یہ ملک کے دفاع میں اپنی جان قربان کرنے والے بہادروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘ ساتھ ہی لکھا کہ ’’حکومت کی اس من مانی کے خلاف اپوزیشن کے اراکین نے راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کیا۔ ہم مودی حکومت کو جوانوں کا حق چھیننے نہیں دیں گے اور آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘‘
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پرمود تیواری نے ایوان سے واک آؤٹ کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کی اور مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سی اے پی ایف کے جو جوان ملک کی حفاظت کرتے ہیں، مودی حکومت اکثریت کے دَم پر انہی کے حقوق کو روند رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں جب سلیکٹ کمیٹی بنی تو سی اے پی ایف کے لوگوں کو اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ مودی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اپنی من مانی کرنے پر بضد ہے۔ اس لیے ہم نے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں واک آؤٹ کر دیا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔