کانگریس رہنما کی درخواست پرممبئی میں انتخابات کے ڈیڑھ سال بعد ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کی جانچ شروع

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دوسرے اورتیسرےنمبر پر آنے والے امیدواروں کی تحریری درخواست پر اسمبلی اور لوک سبھاحلقوں میں 5 فیصد تک ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مائیکرو کنٹرولرز کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بامبے ہائی کورٹ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹراسمبلی انتخابات کے نتائج اور وہاں مخلوط حکومت کو تقریباً ڈیڑھ سال ہو گیا ہے لیکن اب حکمراں خیمے میں کچھ ہلچل پیدا ہوسکتی ہے۔ نتائج کے ڈیڑھ سال بعد ریاست کی ایک اسمبلی سیٹ کی ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی کی جانچ ہورہی ہے۔ کانگریس لیڈر نسیم خان نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے دوبارہ گنتی اور ای وی ایم جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے اس عرضی کو قبول کرتے ہوئے چاندی والی اسمبلی سیٹ پر دوبارہ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی کی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ آج صبح 9.30 بجے سے ای وی ایم کی جانچ شروع ہوگئی ہے۔

ممبئی کے چاندی والی اسمبلی حلقہ میں ای وی ایم مشینوں کی جانچ شروع ہو گئی ہے۔ اس پورے عمل کو انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ کانگریس لیڈر نسیم خان خود موقع پر موجود ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل چاندی والی اسمبلی انتخابات میں استعمال کی گئی ای وی ایم میں گڑبڑی کے سنگین الزامات لگائے تھے جس کے بعد یہ معاملہ سرخیوں میں آیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اہم ہدایات جاری کی تھیں۔ عدالت نے ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کی تفصیلی جانچ کا حکم دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پہلی بار امیدواروں کی موجودگی میں ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کا براہ راست معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اس پورے عمل پرسبھی کی نظریں مرکوز ہیں.


حال ہی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی) سسٹم کی برن میموری (یا مائیکرو کنٹرولر) کی تصدیق کے لیے ایک معیاری آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کیا ہے۔ یہ قدم سپریم کورٹ آف انڈیا کے 2004 کے فیصلے ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز بمقابلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اس حکم کے مطابق دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کی تحریری درخواست پر اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں میں 5 فیصد تک ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مائیکرو کنٹرولرز کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

اس عمل کے تحت ہرمشین پر 1400 ووٹ تک کا ماک پول کرایا جائے گا۔ اگر اس کے نتائج وی وی پی اے ٹی پرچیوں سے ملتے ہیں تو یہ مانا جائے گا کہ برن میموری کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے اور مشین تصدیق شدہ ہے۔ حالانکہ اگر کسی طرح کا تضاد سامنے آتا ہے تو اس سے نپٹنے کے لیے ابھی تک کوئی واضح طریقہ کار طے نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تکنیکی ایس او پی الیکٹرانکس ووٹنگ مشین بنانے والی پبلک سیکٹر کی 2 کمپنیوں بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) اور الیکٹرانکس کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (ای سی آئی ایل) کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔ چاندی والی اسمبلی حلقہ میں 400 پولنگ بوتھ پر 400 ای وی ایم کا استعمال ہوا تھا، جس کا 5 فیصد یعنی 20 ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشین کی جانچ کی جائے گی۔ یہ تمام مشین کانگریس لیڈر نسیم خان نے خود منتخب کی ہیں۔