یوپی کانگریس لیڈروں نے صدف جعفر سے لکھنؤ جیل میں کی ملاقات

پرینکا نے کہا ہے کہ ’’ہماری خاتون کارکن صدف جعفر پولیس کو بتا رہی تھیں کہ شرپسند عناصر کو گرفتار کرو، لیکن یوپی پولیس نے انہی کو گرفتار کر کے ان کی بری طرح سے پٹائی کی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہو رہے احتجاج کے دوران گرفتار کی گئیں کانگریس لیڈر و سماجی کارکن صدف جعفر سے کانگریس ریاستی صدر اجے کمار للو کی قیادت میں چار رکنی وفد نے پیر کو لکھنؤ ضلع جیل میں ملاقات کر کے ان کا حال چال جانا۔

یوپی کانگریس کی رکن و سماجی کارکن صدف جعفر کو جمعرات کو راجدھانی میں ہوئے احتجاجی مظاہرے کے دوران پریورتن چوک سے گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ پولیس نے حراست کے دوران ان کی پٹائی بھی کی۔ گرفتاری سے قبل اپنے فیس بک لائیو میں صدف نے پولیس سے سوال پوچھا تھا کہ آخر وہ تشدد کرنے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی ہے؟وہ تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے۔


شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پریورتن چوک پر صدف موجود تھیں۔ اس وقت انہوں نے جو فیس بک پر ویڈیو ڈالا ہے اس میں وہ پولیس سے سوال پوچھتی نظر آرہی ہیں۔ صدف سمیت 34 افراد کے خلاف حضرت گنج پولیس اسٹیشن پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ صدف جن پر الزم ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران انہوں نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا ہے، صدف نے بتایا کہ کس طرح سے پولیس نے حراست کے دوران ان کی پٹائی کی۔


کانگریس وفد میں موجود سینئر کانگریس لیڈر ونود مشرا اور پردیپ سنگھ نے یواین آئی کو پیر کو بتایا کہ صدف نے صاف صاف بتایا کہ افسران نے انہیں پھنسایا ہے ان کو تشدد سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ تو پولیس کو تشدد کے مقام پر جانے کے لئے آگاہ کر رہی تھیں۔

ریاستی صدر اجے کمار للو نے صدر کو یقن دہانی کرائی کہ پارٹی پوری طرح سے معاملے سے آگا ہے ’’پارٹی ان کی رہائی کے لئے جو کچھ بھی ممکن ہوگا کرے گی۔ حکومت کو انہیں بغیر کسی شرط کے رہا کرنا ہوگا۔‘‘ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ کانگریس جنر ل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے صدف کو جیل میں بند کرنے پر یوپی حکومت کی تنقید کی ہے۔


اپنے ایک ٹوئٹ میں پرینکا نے کہا ہے کہ ’’ہماری خاتون کارکن صدف جعفر پولیس کو بتا رہی تھیں کہ شرپسند عناصر کو گرفتار کرو، لیکن یوپی پولیس نے انہی کو گرفتار کر کے ان کی بری طرح سے پٹائی کی۔ وہ دو چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں ہیں۔ یہ حکومت کی زیادتی ہے۔ اس طرح کی بربریت قطعی برداشت نہیں کی جائے گی ہماری خاتون کارکن کو فوراً رہا کیا جائے‘‘۔

پولیس کے ذریعہ گرفتار کیے جانے سے قبل صدف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر دو ویڈیوز شئیر کی ہیں جس میں وہ احتجاجی مظاہرے کے تشدد میں تبدیل ہوجانے کے باجود بھی پولیس کے کچھ نہ کرنے کی نشاندہی کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔