گیانیش کمار کے استعفی کے مطالبہ پر دہلی میں کانگریس کی ریلی، مودی اور شاہ کے لیے سخت انتباہ: وینوگوپال

کانگریس چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفی کے مطالبہ پر دہلی کے رام لیلا میدان میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کر رہی ہے۔ کے سی وینوگوپال نے اسے مودی اور امت شاہ کے لیے سخت انتباہ قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>کے سی وینوگوپال، ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفی کے مطالبہ پر اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس ریلی کو وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے لیے ایک سخت انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے حکومت کے ہوش اڑا دیے ہیں۔

وینوگوپال نے دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی مظاہرہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ریلی کی حمایت میں عوام کے بڑے پیمانے پر جمع ہونے سے اپنا ضبط کھو بیٹھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مظاہرین کو انتشار پسند قرار دے رہے ہیں اور احتجاجی تحریک کو پارلیمنٹ کی توہین بتا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ احتجاج وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے لیے ایک سخت انتباہ ہے۔ گیانیش کمار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا ہوگا۔ ہماری اس بات کو لکھ کر رکھ لیجیے۔‘‘

کانگریس نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری ضروری ہے۔ وینوگوپال نے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس احتجاج کے دوران تعاون کرتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہوگا۔


ریلی میں شرکت کے لیے دہلی پہنچنے والے کیرالہ کے وزیر صحت کے مرلی دھرن نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ نہیں دیتے۔

کیرالہ کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے احتجاج کو ہندوستان کو بچانے کی لڑائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا پارلیمانی جمہوری نظام خطرے میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن غیر جمہوری انداز میں بی جے پی کی مدد کر رہا ہے اور اس احتجاج نے عوام کے سامنے اس صورت حال کو واضح کر دیا ہے۔

چنیتھلا نے کہا کہ ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں اس نوعیت کی تحریک پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور اسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپنی آنکھیں کھولنے اور گیانیش کمار کے استعفے کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے عمل کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے گیانیش کمار کے خلاف کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ (کے ایس ٹی پی) سے متعلق 2006 کی شکایت سمیت دیگر الزامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ان الزامات کی جانچ ریاست کے محکمہ ویجیلنس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ شکایات ابھی حکومت کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہیں اور موصول ہونے کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔


یہ معاملہ 2006 میں شروع ہونے والے کے ایس ٹی پی کے ایک سڑک منصوبے سے متعلق ہے، جس کے تحت عالمی بینک کی مالی مدد سے 215 کروڑ روپے کی لاگت سے انگامالی سے ترووننت پورم تک ایم سی روڈ کی تعمیر نو کی جانی تھی۔ اس منصوبے کا ٹھیکہ ملائیشیا کی ایک کمپنی اور بھارتی کمپنی بھاگیرتھ انجینئرنگ کے مشترکہ ادارے کو دیا گیا تھا۔

دریں اثنا، کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے ہفتہ کو عوام سے دہلی میں ہونے والی احتجاجی ریلی میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جب جمہوریت کو چیلنج درپیش ہو تو خاموش رہنا کوئی راستہ نہیں ہے۔ آئین اور عوام کے مینڈیٹ کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔