انکیتا بھنڈاری کے حق میں انڈیا گیٹ پر کانگریس کا زبردست مظاہرہ، انکیتا کے والدین حراست سے رِہا ہوئے

کانگریس لیڈروں نے الزام لگایا کہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی فریاد کرنے والے خاندان کو حراست میں لیا جا رہا ہے، جبکہ معاملے میں مبینہ وی آئی پی تعلق کی جانچ کا مطالبہ اب بھی برقرار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>انکیتا بھنڈاری کی والدہ کو حراست میں لیتی ہوئی دہلی پولیس کی خاتون اہلکار</p></div>
i

انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے انڈیا گیٹ پر جاری احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے انکیتا بھنڈاری کے والدین، کانگریس لیڈر پون کھیڑا سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں علی الصبح تقریباً 5 بجے پولیس نے انکیتا کے والدین کو رہا کر دیا، لیکن کانگریس کے کئی لیڈران اب بھی حراست میں ہیں۔ مظاہرین میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران کے سی وینوگوپال اور سپریا شرینیت سمیت کئی اہم سماجی شخصیات بھی شامل تھیں، جو رات بھر انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے پُرامن احتجاج کرتے نظر آئے۔ ان لوگوں میں ناراضگی دُشینت گوتم کو گورنر بنائے جانے کے فیصلہ پر ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انھیں فوری اثر سے ہٹایا جائے۔

انکیتا بھنڈاری کے حق میں انڈیا گیٹ پر کانگریس کا زبردست مظاہرہ، انکیتا کے والدین حراست سے رِہا ہوئے

کانگریس لیڈر اور منگلور سے رکن اسمبلی قاضی نظام الدین نے کہا کہ انکیتا کے والدین راشٹرپتی بھون کے سامنے پُرامن دھرنا دے رہے تھے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے خاندان کی حوصلہ افزائی کی، لیکن رات گئے پولیس مظاہرین کو حراست میں لے کر جانے لگی۔ قاضی نظام الدین نے الزام لگایا کہ جس پولیس کو مبینہ وی آئی پی پہلو کی جانچ کرنی چاہیے، وہ انکیتا کے والدین کو حراست میں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس لڑائی کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے دشینت گوتم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، تحریک جاری رہے گی۔


کانگریس لیڈروں نے الزام لگایا کہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی فریاد کرنے والے خاندان کو حراست میں لیا جا رہا ہے، جبکہ معاملے میں مبینہ وی آئی پی تعلق کی جانچ کا مطالبہ اب بھی برقرار ہے۔ انکیتا کے والدین اپنی بیٹی کے معاملے میں غیر جانب دارانہ جانچ اور مبینہ وی آئی پی پہلو کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انکیتا بھنڈاری کے حق میں انڈیا گیٹ پر کانگریس کا زبردست مظاہرہ، انکیتا کے والدین حراست سے رِہا ہوئے

پولیس کے ذریعہ حراست میں لیے جانے کے دوران انکیتا بھنڈاری کی ماں نے کہا کہ ’’ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب تک ان (دشینت گوتم) کی تقرری منسوخ نہیں ہو جاتی، ہم اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ اگر ہمیں یہاں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی تو ہم اپنے گھروں میں ہی بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔‘‘ دوسری طرف انکیتا کے والد نے کہا کہ ’’ہم حکومت کو 24 گھنٹے کی مہلت دیتے ہیں کہ سکم کے گورنر کے طور پر دشینت کمار کی تقرری منسوخ کی جائے۔ اگر اسے منسوخ نہیں کیا گیا تو پورے ملک کے لوگ سڑکوں پر اتریں گے اور اس کے لیے حکومت ذمہ دار ہوگی۔‘‘


اس سے قبل بدھ کے روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے انڈیا گیٹ پر دھرنا دے رہے انکیتا کے والدین سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے خاندان کو دلاسہ دیا اور مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ انکیتا کے والدین کا مطالبہ ہے کہ جب تک ان کی بیٹی کے معاملے میں مبینہ ’وی آئی پی‘ پہلو کی سی بی آئی جانچ مکمل نہیں ہو جاتی، تب تک دشینت کمار گوتم کی گورنر کے طور پر تقرری پر روک لگائی جائے۔

اس معاملہ میں راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’4 سال گزر جانے کے باوجود انکیتا کے خاندان کو انصاف نہیں ملا، بلکہ ایک مبینہ ملزم کو تحفظ فراہم کیا گیا اور آئینی عہدے سے نوازا گیا۔ آج انکیتا کے والدین انصاف کی فریاد لے کر اپنے گھر سے میلوں دور انڈیا گیٹ پر بیٹھے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔