غریب جھگی والوں کے حق میں کانگریس متحرک، سپریم کورٹ میں نظر ثانی عرضی داخل

ریلوے لائن کے ارد گرد واقع 48 ہزار جھگی-جھونپڑیوں کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف دہلی پردیش کانگریس نے نظر ثانی عرضی داخل کی ہے، یہ عرضی سینئر ایڈووکیٹ سلمان خورشید کی رہنمائی میں دائر کی گئی

دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار جھگی باشندوں سے ملاقات کرتے ہوئے
دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار جھگی باشندوں سے ملاقات کرتے ہوئے
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں ریلوے لائن کے ارد گرد غیر واقع 48000 جھگی جھونپڑیوں کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف کانگریس کے رہنما اجے ماکن کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ سلمان خورشید کی رہنمائی پر دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان جھگیوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ افراد آباد ہیں، جنھیں دہلی میں رہنے کا حق ہے۔ کانگریس قائد نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ کسی بھی جھگی کو رہائش کے لئے متبادل جگہ دیئے بغیر ویران نہیں کیا جانا چاہئے۔

دہلی میں ریلوے ٹریک کے نزدیک واقع جھگیوں کا منظر / Getty Images
دہلی میں ریلوے ٹریک کے نزدیک واقع جھگیوں کا منظر / Getty Images

دہلی کانگریس کے صدر انیل چودھری نے ٹوئٹر پر عرضی دائر کرنے کی اطلاع دی ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’کانگریس پارٹی نے سلمان خورشید کی رہنمائی میں عدالت میں عرضی ڈال دی ہے۔ 48 ہزار خاندانوں کو بے گھر نہیں ہونے دیں گے۔ کورٹ سے سڑک تک کانگریس پارتی ان کی لڑائی لڑے گ ی اور انہیں ان کا حق، پکا مکان دلا کر رہے گی۔‘‘

دہلی کانگریس صدر انیل چودھری نے کہا، ’’دہلی کی اروند کیجریوال حکومت اور بی جے پی کی حکمرانی والی میونسپل کارپوریشن ان لوگوں کو اتنے سالوں میں دوسری جگہ پر آباد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ شیلا دکشت کے زمانے میں دہلی میں 64184 فلیٹوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا لیکن عآپ حکومت صرف 1931 فلیٹوں کو ہی الاٹ کر پائی ہے۔‘‘

ادھر، سی پی آئی ایم پولت بیورو کی رکن برندا کرات نے بھی اس معاملہ میں ریلوے کے وزیر پیوش گوئل کو خط لکھ کر گزارش کی ہے کہ ان جھگی بستیوں میں رہنے والے لوگوں کو صرف ہٹایا ہی نہ جائے بلکہ ان کو آباد بھی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر ریل کے پاس یہ حق ہے ہ وہ لوگوں کی باز آباد کاری کو یقینی بنانے کا حکم جاری کریں۔

واضح رہے کہ 31 اگست کو سپریم کورٹ نے دہلی میں 140 کلومیٹر طویل ریلوے پٹریوں کے ارد گرد واقع تقریباً 48 ہزار جھگی-جھونپڑیوں کو تین ماہ کے اندر اندر ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ نیز، یہ ہدایت بھی دی تھی کہ کسی بھی صورت میں کوئی عدالت اس فیصلے کی عمل درآمد کے خلاف حکم امتناع جاری نہیں کرے گی۔ سپریم کورٹ کی جسٹس ارون مشرا کے بنچ نے یہ فیصلہ ’ایم سی مہتا کیس‘ میں سنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکم میں کہا ہے کہ اگر کوئی عدالت ریلوے لائن کے آس پاس تجاوزات کے سلسلے میں عبوری حکم جاری کرتی ہے تو وہ نافذ العمل نہیں ہوگا۔

next