آندھرا اور اڈیشہ میں ’ارنب‘ سے ہونے والی تباہی پر کانگریس کا اظہار افسوس، مودی حکومت سے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
ملکارجن کھڑگے نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر راحت اور بازآبادکاری کے لیے مربوط کوششوں کی قیادت کرے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آندھرا پردیش میں سمندری طوفان ’ارنب‘ کے سبب ہونے والے جانی نقصان اور اڈیشہ میں شدید بارش و سیلاب سے عوامی زندگی کے متاثر ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر راحت اور بازآبادکاری کے لیے مربوط کوششوں کی قیادت کرے۔ ساتھ ہی انھوں نے گزارش کی ہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ کے ذریعہ تمام متاثرہ خاندانوں کو بروقت امداد فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے اس بیان میں کہا کہ آندھرا پردیش میں لوگوں کی جانوں کا ضیاع اور اڈیشہ میں سمندری طوفان ’ارنب‘ کے باعث عوامی زندگی میں بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والی رکاوٹیں انتہائی افسوس ناک ہیں۔ انہوں نے اس حادثے میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں کے تئیں دلی تعزیت کا بھی اظہار کیا۔
دریں اثنا، کانگریس نے بھی اپنے سوشل میڈیا بیان میں آندھرا پردیش میں سمندری طوفان ’ارنب‘ سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی اور اڈیشہ میں شدید بارش اور سیلاب کی صورت حال پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جو اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ کانگریس نے جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گردابی طوفان ’ارنب‘ کا اثر کمزور ضرور پڑا ہے، لیکن پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ آج بھی کئی ریاستوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا دور جاری رہنے کا امکان محکمہ موسمیات نے ظاہر کیا ہے۔ کہیں آندھی کے ساتھ بجلی چمک سکتی ہے، تو کہیں موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ کچھ مقامات پر 95 کلومیٹر کی رفتار سے بھی ہوا چل سکتی ہے۔ دہلی-این سی آر میں بھی ارنب کا اثر صاف نظر آ رہا ہے۔ دہلی، نوئیڈا اور غازی آباد سمیت این سی آر کے علاقوں میں جمعرات کی شب سے ہی دھیمی بارش ہو رہی ہے۔ دہلی میں دیر رات تیز ہوائیں بھی چلیں، جس سے لوگوں کو ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا ہے۔
