مرکزی حکومت 2سال سے معلق ماب لنچنگ مخالف قانون جلد ازجلد بنائے : کانگریس

سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی بنچ نے ماب لنچنگ کی نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس دیا اور پچھلی ہدایت پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کی تھی۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی بنچ نے دو سال قبل ہی مرکزی حکومت کو ماب لنچنگ مخالف قانون بنانے کی ہدایت دی تھی اور اس کے لیے 11رہنماءنکات بھی سجھائے تھے، مگر حکومت نے سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر کوئی عمل نہیں کیا۔

اس کے بعد جولائی 2019 میں ایک بار پھراس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی بنچ نے ماب لنچنگ کی نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس دیا اور پچھلی ہدایت پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کی۔ پھربھی مودی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ ملک میں ماب لنچنگ کے واقعات کو روکنے کے لیے ماب لنچنگ قانون جلد ازجلد بنایا جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں، مہاراشٹر: پالگھر موب لنچنگ کے 101 ملزمین کی فہرست جاری، سبھی ’غیر مسلم‘

میڈیاکے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پالگھرمیں ہوئے ماب لنچنگ کے واقعے کے بعد مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے وزیراعلیٰ کو فون کرکے اس واقعہ پر بات کرنے میں نہایت عجلت دکھائی لیکن دو سال سے بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود انہوں نے ماب لنچنگ مخالف قانون کیوں نہیںبنایا؟۔ ماب لنچنگ کے واقعات دیگر ریاستوں میں بھی ہوئے اور وہ سب بھی قابل مذمت تھے، لیکن ان واقعات پر اس طرح کی عجلت بی جے پی کے کسی بھی لیڈر نہیں دکھائی۔ جبکہ اس کے برخلاف کئی معاملات میں بی جے پی کے لیڈران نے ماب لنچنگ کے ملزمین کا استقبال تک کیا اور ایک ملزم کی موت کے بعد اسے ترنگے میں لپیٹا بھی گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنی ان حرکتوں سے بی جے پی ملک کے سامنے کون سی مثال پیش کرنا چاہتی ہے

next