کانگریس کے دہلی انچارج پی سی چاکو کا استعفی

چاکو نے کہا کہ کانگریس کا ووٹر2013 میں ہی عام آدمی پارٹی کے ساتھ چلا گیا تھا، اس کے بعد ووٹر کو واپس نہیں لایا جا سکا، پارٹی کو اس کا خمیازہ گزشتہ انتخابات کے ساتھ ہی اس بار بھی بھگتنا پڑا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد کانگریس کے ریاستی انچارج اور جنرل سکریٹری پی سی چاکو نے استعفی دے دیا۔ قبل ازیں، دہلی کانگریس کے صدر سبھاش چوپڑا نے منگل کی دیر رات گئے ہار کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنا استعفی پارٹی ہائی کمان کو بھیج دیا تھا۔

دہلی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین کیرتی آزاد نے منگل کو ہی پارٹی کی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں اعلان کر دیا تھا کہ ان کو جس شکل میں ذمہ داری ملی تھی اس عہدے سے انتخابات کے بعد استعفی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

پی سی چاکو نے کہا کہ انہوں نے پارٹی کی شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنا استعفی پارٹی اعلی کمان کو بھیج دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو این آئی کے مطابق چاکو نے کہا کہ دہلی میں کانگریس کی ہار کا سلسلہ شیلا دکشت کے دورِ اقتدار میں ہی شروع ہو گیا تھا۔

بیان کے مطابق چاکو نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کا ووٹر 2013 میں ہی عام آدمی پارٹی کے ساتھ چلا گیا تھا اور اس کے بعد ووٹر کو واپس نہیں لایا جا سکا، اس کا خمیازہ پارٹی کو دہلی اسمبلی کے گزشتہ انتخابات کے ساتھ ہی اس بار بھی بھگتنا پڑا ہے۔ دونوں الیکشن میں 70 رکنی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو ایک بھی سیٹ حاصل نہیں ہو سکی۔

پی سی چاکو طویل عرصے سے دہلی کانگریس کے انچارج ہیں۔ انہوں نے منگل کو پارٹی کی شکست پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دہلی کے عوام نے بی جے پی کے جھوٹ اور پولرائزیشن کی سیاست کو مسترد کیا ہے، اس سے انھیں خوشی ہوئی اور کانگریس دہلی میں واپسی کرے گی۔

شیلا دیکشت کے بارے میں تبصرے پر کانگریس سینئر لیڈر ملند دیوڑا نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا، ’’شیلا دیکشت ایک غیر معمولی سیاستداں اور ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ ان کے دور اقتدار میں دہلی بدل رہی تھی اور کانگریس مضبوط ہو رہی تھی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا، ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ دیکشت کی موت کے بعد ان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس اور دہلی کے عوام کے تئیں زندگی وقف کر دی تھی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔