رام مندر نذرانہ چوری پر آر ایس ایس کے بیان کو کانگریس نے بتایا ’گھڑیالی آنسو‘، پوچھے تلخ سوالات
کانگریس لیڈر آرادھنا مشرا نے پوچھا کہ آر ایس ایس اگر نذرانہ چوری واقعہ سے تکلیف میں ہے تو اس نے ٹرسٹ کے عہدیداروں پر کیا کارروائی کی؟ ان پر ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی؟
کانگریس نے ایودھیا کے شری رام مندر میں نذرانہ و عطیات کی ہوئی چوری پر آر ایس ایس کے حالیہ بیان کو ’گھڑیالی آنسو‘ قرار دیا ہے۔ پارٹی نے اس معاملہ میں نہ صرف آر ایس ایس اور بی جے پی سے تلخ سوالات پوچھے ہیں، بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس شری رام کے پجاری نہیں ہیں، وہ کاروباری ہیں جنھوں نے سناتن مذہب اور رام بھکتوں کو دھوکہ دیا ہے۔
کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اتر پردیش قانون ساز پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا نے کچھ اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس-بی جے پی گھڑیالی آنسو بہا کر خود کو اس معاملہ سے الگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہندوستانی باشندے اور رام بھکت انھیں معاف نہیں کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس لیڈر دتاترے ہوسبولے نے ٹیلی پرامپٹر پر لکھا ہوا بیان پڑھا، لیکن اس سے آر ایس ایس اس گناہِ عظیم اور اپنی ذمہ داری سے کنارہ نہیں کر سکتا۔ انھوں نے اس پورے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔
آرادھنا مشرا نے نذرانہ چوری معاملہ پر کئی سنگین سوالات پریس کانفرنس میں میڈیا اہلکاروں کے سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کا انتظام و انصرام دیکھنے والے چمپت رائے بنسل، انل مشرا اور گوپال راؤ آر ایس ایس سے جڑے ہوئے۔ کیا اس بات سے آر ایس ایس انکار کر سکتا ہے؟ اگر آر ایس ایس واقعی اس واقعہ سے تکلیف میں ہے، تو اس نے ان عہدیداروں کے خلاف کیا کارروائی کی؟ آخر کیوں ان لوگوں پر ابھی تک ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی ہے؟ جو ٹرسٹ کے مالک بن کر بیٹھے تھے، ان کی جوابدہی اب تک کیوں طے نہیں کی گئی؟
کانگریس لیڈر نے بی جے پی حکومت پر ٹرسٹ کے بڑے عہدیداروں کو بچانے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس معاملہ میں چھوٹے ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے، جنھیں ٹرسٹ نے ہی تقرری دی تھی۔ ٹرسٹ نے اپنی پسند کے لوگوں کو ایس بی آئی اور متعلقہ ایجنسیوں کے ذریعہ شری رام مندر میں کام پر لگایا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ کے ذریعہ ان لوگوں کی نہ کوئی جانچ ہوئی اور نہ ہی ان کے پس منظر کے بارے میں تحقیقات کی گئی۔
مندر میں بڑے پیمانے پر ہوئی مالی بے ضابطگیوں پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے آرادھنا مشرا نے ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس محکموں کے ذریعہ کوئی کارروائی نہیں کیے جانے پر بھی سوال اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر سے آئے نذرانے، 1250 شیلاؤں اور کروڑوں روپے کے زیورات کا کوئی حساب نہیں رکھا گیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرسٹ کو آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ پوری طرح سے آر ایس ایس کا کھیل ہے، کیونکہ وہ خود نہ تو رجسٹرڈ ہے، نہ ہی اس کا آڈٹ ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ سوال مضبوطی کے ساتھ اٹھایا کہ آخر مندر میں کروڑوں روپے کی لوٹ کا پیسہ کہاں گیا؟
پریس کانفرنس میں آرادھنا مشرا نے یاد دلایا کہ شری رام مندر کی تعمیر کا کام 9 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ کے بعد شروع ہوا۔ عدالت نے مندر تعمیر اور ٹرسٹ کی تشکیل کی ذمہ داری مرکز کی مودی حکومت کو سونپی تھی۔ اس لیے مرکز اور ساتھ میں اتر پردیش کی بی جے پی حکومت بھی اس گھوٹالہ کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بی جے پی کا عقیدہ ہمیشہ سے بھگوان شری رام کے نام پر سیاست کرنے میں رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ شری رام مندر کی زمین خریدنے میں ہوئے گھوٹالہ سے لے کر نذرانہ کی چوری تک کانگریس نے ہمیشہ ثبوت پیش کیے ہیں۔ ان گھوٹالوں کو انجام دینے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہونی چاہیے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں اس معاملے کی جانچ کرائے جانے سے متعلق کانگریس کا مطالبہ بھی میڈیا اہلکاروں کے سامنے دہرایا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
