میناکشی نٹراجن کا پرچہ مسترد، پریمل ناتھوانی کی نامزدگی منظور؛ کانگریس نے ’دوہرے معیار‘ پر الیکشن کمیشن کو گھیرا
این ڈی اے حمایت یافتہ پریمل ناتھوانی کی نامزدگی کو منظوری پر کانگریس نے الیکشن کمیشن پر دوہرے معیار کا الزام لگایا اور میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیے جانے کا حوالہ دے کر فیصلے پر سوالات اٹھائے

جھارکھنڈ راجیہ سبھا انتخاب میں این ڈی اے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی کی نامزدگی کو منظوری ملنے کے بعد کانگریس نے الیکشن کمیشن اور انتخابی حکام پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک طرف کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کر دی گئی، جبکہ دوسری طرف پریمل ناتھوانی کو خامیوں کے باوجود انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی گئی۔
کانگریس کے ترجمان اور وکیل سریندر چوہان نے الزام لگایا کہ پریمل ناتھوانی کے نامزدگی فارم اور حلف نامے میں متعدد قانونی خامیاں موجود تھیں۔ ان کے مطابق امیدوار نے قانون کے تحت لازمی بعض تفصیلات فراہم نہیں کیں، جن میں رجسٹرڈ فرموں اور دیگر کاروباری مفادات سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔
کانگریس کے مطابق، جانچ کے دوران ان خامیوں کی نشاندہی کے بعد ناتھوانی کو اضافی وضاحت اور دستاویزات جمع کرانے کا موقع دیا گیا، حالانکہ اس مرحلے پر نئی دستاویزات قبول نہیں کی جا سکتیں۔ سریندر چوہان کے مطابق جب ریٹرننگ افسر نے پریمل ناتھوانی سے جواب طلب کیا تو انہوں نے غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے نئی تفصیلات پیش کیں۔ کانگریس نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نامزدگی کی جانچ کے دوران بنیادی خامیوں کو بعد میں درست کرنے کی اجازت دینا انتخابی قوانین کے منافی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اسی بنیاد پر ناتھوانی کی نامزدگی مسترد کی جانی چاہیے تھی۔
تاہم ریٹرننگ افسر نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کو پریمل ناتھوانی کی نامزدگی کو درست قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد ان کے لیے 18 جون کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخاب میں حصہ لینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ جھارکھنڈ کی دو راجیہ سبھا نشستوں کے لیے ہونے والے انتخاب میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے بیدیاناتھ رام، کانگریس کے پرنو جھا اور این ڈی اے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی میدان میں ہیں۔
نامزدگی کی منظوری کے معاملے پر اسمبلی احاطے کے باہر سیاسی ماحول بھی گرم رہا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے ناتھوانی کی حمایت میں مظاہرہ کیا، جبکہ کانگریس کارکنوں نے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امیدوار نے تمام ضروری وضاحتیں فراہم کر دی تھیں اور نامزدگی کی منظوری قانون کے مطابق دی گئی ہے۔
دریں اثنا کانگریس نے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیے جانے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی بات رکھی۔ الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ قانونی طور پر غلط ہے۔ ان کے مطابق جس معاملے کا حوالہ دے کر نامزدگی رد کی گئی، اس میں ابھی تک مجسٹریٹ کی جانب سے نوٹس لینے کا مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔
سنگھوی نے کہا کہ انتخابی قوانین کے مطابق صرف ایسے فوجداری مقدمات کا انکشاف ضروری ہوتا ہے جن میں الزامات طے ہو چکے ہوں اور جرم ثابت ہونے پر دو سال سے زیادہ سزا کی گنجائش ہو۔ ان کے بقول میناکشی نٹراجن کے معاملے میں ایسی کوئی صورت حال موجود نہیں تھی، اس کے باوجود ان کی نامزدگی مسترد کر دی گئی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ایک جانب میناکشی نٹراجن کے معاملے میں سخت رویہ اختیار کیا گیا اور دوسری جانب پریمل ناتھوانی کو رعایت دی گئی، جس سے انتخابی عمل میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے معاملے میں مداخلت اور یکساں اصولوں کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
