ٹاپر کو صدر کا نام بھی نہیں معلوم، یوپی کا ‘ویاپم’ہے ٹیچر تقرری گھپلہ: کانگریس

اتر پردیش میں ایک خاتون ٹیچر 25جگہوں سے تنخواہ لے رہی ہے اور یہ سب وزیر اعلی کی نگرانی میں چل رہے سرگرم گروہ کی وجہ سے ہی ممکن ہوپایا ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اترپردیش میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر نوجوانوں کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس نے پیر کو کہا کہ 69 ہزار ٹیچر وں کی تقرری 'ویاپم'کی طرح بڑا گھپلہ ہے جس کی اعلی سطحی جانچ کی جانی چاہئے۔

قانون سازاسمبلی کے لیڈر دیپک سنگھ نےیہاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی نے انتخابات سے پہلے اعلان کیا تھا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گی لیکن حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دھڑی کیا ہے۔ 69 ہزار ٹیچروں کی تقرری کو منسوخ کر اس کی اعلی سطح جانچ کی جانی چاہئے۔

ریاستی کانگریس کے نائب صدر دیپک چودھری نے کہا کہ یوگی حکومت کی نگرانی میں گروہ چل رہے ہیں جس نے ٹیچر تقرری کے عمل میں نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دھڑی کی ہے۔ 69 ہزار ٹیچروں کی تقرری کو فورا منسوخ کیا جائے اور اس کی اعلی سطحی جانچ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ سینکڑوں کروڑ روپئے کا گھپلہ ہے۔ بی جے پی کو بتانا چاہئے کہ کیا ایسے گھپلوں سے وہ الیکشن کا پیسہ اکٹھا کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم مافیا کے ایل پٹیل کا کردار اس تقرری میں سامنے آیا ہے۔پٹیل تو چھوٹی مچھلی ہیں۔جانچ ہوگی تو بڑے بڑے لوگ اس میں ملوث پائے جائیں گے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ اترپردیش کا ویاپم ہے۔ اس سے پہلے بھی 68500 ٹیچروں کی تقرری میں گڑبڑی ہوئی تھی۔جس میں عدالت نے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت سیاست کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب 69 ہزار ٹیچروں کی تقرری میں نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ہر امتحان کی طرح اس امتحان میں بھی پیپر لیک ہوا ہے۔ ٹاپر کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ جب پتہ چلا تو اسے صدر جمہوریہ کے نام تک کا پتہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں محکمہ تعلیم میں ایک بڑا نیٹ ورک چل رہا ہے۔ ایک خاتون ٹیچر 25جگہوں سے تنخواہ لے رہی ہے۔یہ سب وزیر اعلی کی نگرانی میں چل رہے سرگرم گروہ کی وجہ سے ہی ممکن ہوپایا ہے۔

next