’خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی کی کوشش‘، کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ، 26 شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسیں
کانگریس نے 26 شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسیں کر کے مودی حکومت پر خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی مسلط کرنے کا الزام لگایا۔ الکا لامبا نے کہا کہ 543 نشستوں پر فوری طور پر ریزرویشن دیا جائے

نئی دہلی: کانگریس نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر مودی حکومت کے خلاف ملک گیر مہم چھیڑتے ہوئے 26 شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسیں کیں اور الزام لگایا کہ حکومت اس قانون کی آڑ میں حد بندی (ڈی لمیٹیشن) کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایکس پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی خواتین لیڈران نے ملک بھر میں پریس کانفرنسیں کر کے پارلیمنٹ کے حالیہ خصوصی اجلاس کے ’اصل مقصد‘ کو بے نقاب کیا۔ ان کے مطابق، یہ اقدام خواتین کو ریزرویشن دینے کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش تھا، جسے اپوزیشن کی یکجہتی نے ناکام بنا دیا۔
مختلف ریاستوں میں منعقدہ ان پریس کانفرنسوں میں ممبئی، گجرات، بہار، اتر پردیش، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، پنجاب، جموں و کشمیر اور دیگر مقامات شامل تھے، جہاں کانگریس کی خواتین لیڈران نے مشترکہ طور پر حکومت کی نیت پر سوال اٹھائے۔
جے پور میں میڈیا بریفنگ کے دوران آل انڈیا مہلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے ناری شکتی وندن ایکٹ (خواتین ریزرویشن بل) کو لے کر مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی خواتین کے حقیقی مسائل پر سنجیدہ نہیں ہے اور اس کے فیصلے سیاسی و انتخابی فائدے کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
الکا لامبا نے کہا کہ حکومت نے خواتین ریزرویشن بل کو جان بوجھ کر حد بندی کے عمل سے جوڑ کر اس کے نفاذ میں تاخیر کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ان کے مطابق، اگر نیت صاف ہے تو 2023 میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کو موجودہ لوک سبھا کی 543 نشستوں کی بنیاد پر فوری نافذ کیا جائے اور خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیا جائے، نہ کہ اسے 2029 تک مؤخر کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس معاملے پر وزیر اعظم کو کئی بار خطوط لکھے، مگر حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ الکا لامبا کے مطابق، کانگریس نے ماضی میں 1992 میں پنچایت اور بلدیاتی اداروں میں خواتین ریزرویشن نافذ کیا تھا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور خواتین کی سیاسی شمولیت مضبوط ہوئی۔
دیگر ریاستوں میں پارٹی لیڈران، جن میں ورشا گائیکواڑ، چایانیکا یونیال، پرنیتی شندے، دیپتیکا پانڈے سنگھ، مہما سنگھ، شوبھا اوزہا، رجنی پاٹل اور کماری سیلجا شامل ہیں، نے بھی یکساں موقف اپناتے ہوئے الزام لگایا کہ مودی حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے اور اصل مقصد حد بندی کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
کانگریس نے اپنی مانگ دہراتے ہوئے کہا کہ 2023 کے خواتین ریزرویشن قانون کو فوری نافذ کیا جائے اور لوک سبھا کی تمام 543 نشستوں پر خواتین کو ریزرویشن دیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔