مدھیہ پردیش میں 600 کروڑ کا گھوٹالہ! کانگریس کا بی جے پی حکومت پر سرکاری خزانے کی بندربانٹ کا الزام
کانگریس نے مدھیہ پردیش میں سرکاری خزانے سے 600 کروڑ روپے کی مبینہ ہیر پھیر پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ پارٹی نے فرضی بل، ڈپلیکیٹ ادائیگی اور نجی کھاتوں میں رقم منتقلی کا الزام لگایا

کانگریس نے مدھیہ پردیش میں سرکاری خزانے سے تقریباً 600 کروڑ روپے کی ہیر پھیر کی ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ ریاست میں سرکاری پیسوں کی بڑے پیمانے پر بندربانٹ کی گئی اور افسران و ملازمین نے سرکاری نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر رقم اپنے اور قریبی افراد کے کھاتوں میں منتقل کی۔
کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مدھیہ پردیش میں سرکاری خزانے سے 600 کروڑ روپے ’ڈکار لیے گئے‘۔ پارٹی کے مطابق ان رقوم سے کسی افسر نے بے حساب زمینیں خریدیں، جبکہ کسی نے پیسہ جوا، سٹے اور عیش و عشرت میں خرچ کیا۔
پارٹی نے دعویٰ کیا کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ مالی بے ضابطگیاں 24 سرکاری محکموں میں انجام دی گئیں۔ کانگریس کے مطابق ڈپلیکیٹ ادائیگی کے نام پر سرکاری رقم نکالی گئی، فرضی بل لگائے گئے اور بعض ملازمین کو جعلی ایمپلائی کوڈ کے ذریعے دوہری تنخواہیں دی گئیں۔
کانگریس نے مزید الزام لگایا کہ بعض افسران نے کروڑوں روپے اپنی بیویوں اور رشتہ داروں کے نجی بینک کھاتوں میں منتقل کیے۔ پارٹی نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ہر طرف ’لوٹ‘ مچی ہوئی ہے اور رہنماؤں و افسران کی ملی بھگت سے لوگوں کی محنت کی کمائی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود خاموش ہیں۔ پارٹی نے حکومت سے اس معاملے میں جواب دہی اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
روزنامہ بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کے محکمہ خزانہ و محاسبہ کے اسٹیٹ فنانشل انٹیلی جنس سیل کی جانچ میں سرکاری خزانے سے تقریباً 600 کروڑ روپے کی ہیر پھیر کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک ریاست بھر میں 59 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں اور 400 سے زائد ملازمین و افسران کو ملزم بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری ادائیگیوں کے لیے استعمال ہونے والے انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض سرکاری کھاتوں کے بجائے نجی یا قریبی افراد کے بینک اکاؤنٹس سسٹم میں شامل کیے گئے، جس کے نتیجے میں سرکاری رقم ان کھاتوں میں منتقل ہوتی رہی۔
جانچ میں 15 سے زائد سرکاری محکموں میں ایسی بے ضابطگیاں سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم میں سب سے زیادہ 45 معاملے سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 305 کروڑ روپے براہ راست نجی کھاتوں میں منتقل ہوئے، جن میں سے تقریباً 220 کروڑ روپے کی وصولی کی جا چکی ہے۔
رپورٹ میں اجین کی بھیروگڑھ جیل کے ایک ملازم کا معاملہ بھی بیان کیا گیا ہے، جس کی ماہانہ تنخواہ مبینہ طور پر 35 ہزار روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ 82 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح علی راج پور کے کٹھی واڑہ میں ایک بلاک ایجوکیشن آفیسر پر ٹریژری کی رقم مختلف کھاتوں میں منتقل کرنے کا الزام ہے، جہاں مبینہ طور پر یہ رقم 20 کروڑ 47 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) بھی ایسے بعض معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے اور ان بینک کھاتوں سے وابستہ افراد کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
