یو پی میں کورونا کے بڑھتے کیسز سے متفکر پرینکا گاندھی نے سی ایم یوگی کو لکھا خط

پرینکا گاندھی نے اپنے خط میں یو پی حکومت کو بھروسہ دلایا ہے کہ عالمی وبا سے مقابلے کے لئے کانگریس کا ہر کارکن حکومت کا ساتھ دینےکے لئے تیار ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش میں کورونا انفیکشن کےبڑھتے معاملوں کے تئیں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اترپردیش کے وزاعلی یوگی آدتیہ نا کو خط لکھ کر حالات سے مقابلے کے لئے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ساتھ ہی اس عالمی وبا کے خلاف حکومت کا ساتھ دینے کا تیقن دیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے جمعہ کو لکھے خط میں پارٹی نے آج شائع کیا ہے۔ پرینکا نے اپنے خط میں لکھا ہے کورونا انفیکشن کے بڑھتے اثر سے اب گاؤں دیہات بھی پاک نہیں ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے 'نو ٹیسٹ نو کورونا' کی پالیسی اختیار کررکھی تھی اور اب کورونا کے معاملے وسفوٹ کی حالت میں ہیں۔ جب تک شفاف طریقے سے ٹیسٹ نہیں بڑھائے جائیں گے تب تک لڑائی ادھوری رہے گی اور حالات اور بھی خطرنا ک ہوسکتے ہیں۔

پرینکا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ریاست میں قرنطینہ مراکز اور اسپتالوں کی حالت کافی خراب ہے۔ کئی جگہ لوگ کورونا سے نہیں بلکہ حکومت کے انتظام سے ڈرر ہے ہیں اور ٹیسٹ کے لئے سامنے نہیں آرہے۔ کورونا کا ڈر دکھا کر پوری ریاست میں بدعنوانی بھی پنپ رہی ہے۔اس پر اگر وقت رہتے لگام نہیں کسا گیا تو کورونا کی لڑائی آفت میں بدل جائے گی۔ حکومت نے ڈیڑھ لاکھ بستروں کا دعوی کیا تھا لیکن 20ہزار فعال کیس آنے پر ہی بستروں کےلئے کر مارا ماری شروع ہوگئی۔

کانگریس لیڈر نے لکھا ہے کہ اسپتالوں میں لگی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے حکومت ممبی اور دہلی کی طرز پر عارضی اسپتالوں کا قیام کیوں نہیں کرتی۔طبی سہولیات ہر شہری کا بنیاد حق ہے۔ وزیر اعظم بنارس کے رکن پارلیمان ہیں جبکہ کئی مرکزی وزیر بھی یوپی سے ہیں۔ آخر بنارس، لکھنؤ اور آگرہ وغیرہ میں عارضی اسپتال کیوں نہیں بنائے جارہےہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ڈی آر ڈی او ، فوج اور پیرا ملٹری کے ذریعہ عارضی اسپتالوں کو چلایا جاسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ڈی آر ڈی او کے اسپتال کو لکھنؤ لایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی میں طبی سہولیات کا استعمال سرحدی اضلاع کے لئے کیا جاسکتا ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہوم آئیسولیشن ایک اچھا قدم ہے لیکن جلد بازی مین اسے آدھی ادھوری تیاریوں کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔ جس سے مریضوں کی مانیٹرنگ اور سرویلانس کا نظام، حالت بگڑنے پر کسے اطلاع دینی ہوگی، مریضوں کے درجہ حرارت اور آکسیجن لیول چیک کرنے کا کیا انتظام ہوگا۔اس کی پوری میپنگ کر کے عوام کو اس کی جانکاری دی جانی چاہے۔ انہوں نے اپنے خط میں حکومت کو بھروسہ دلایا ہے کہ عالمی وبا سے مقابلے کے لئےکانگریس کا ہر کارکن حکومت کا ساتھ دینےکے لئے تیار ہے۔ یوپی کی عوا کے صحت اور زندی کا تحفظ اس وقت پارٹی اولین ترجیح ہے۔پارٹی مثبت تعاون اور خدمت خلق کے جذبے سے لبریز ہوکر لگاتار کوشش کررہی ہے۔

next