پرانی دہلی میں امن قائم کرنے کی کوششیں رنگ لائیں، فریقین میں سجھوتہ ہوا

دو روز کے زبردست ہنگامہ اور فرقہ وارانہ تناؤ کے بعد کل پرانی دہلی کے دونوں مذاہب کے لوگوں نے علاقہ میں امن قائم کرنے کے لئے سمجھوتہ کر لیا ہے

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

پرانی دہلی میں دو دن سے جاری فرقہ وارانہ تناؤ کے بعد کل شم اس وقت ایک راحت کی خبر آئی کہ دونوں مذہبی فریقین کے مابین علاقہ میں امن قائم کرنے کے تئیں ایک سمجھوتہ ہو گیا ہے ۔ اس سمجھوتہ میں سماج کے دونوں طبقات کے مذہبی رہنماؤں، علاقہ کے سیاست داں ، معزز حضرات اور پولیس کے سینئر افسران نے اہم کردار ادا کیا۔ اس سمجھوتہ پر علاقہ کے سابق رکن اسمبلی اور سابق وزیر ہارون یوسف نے کہا ’’اوپر والے کا بہت کرم ہے کہ علاقہ میں جو تناؤ تھا وہ ختم ہو گیا اور جس فرقہ وارانہ ہم اآہنگی کے لئے انہوں نے برسوں محنت کی وہ تار تار ہونے سے بچ گئی ‘‘

اسکوٹی کی پارکنگ کو لے کر دو افراد کے معمولی جھگڑے نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کر لی تھی جس کی وجہ سے پرانی دہلی کے لال کنواں علاقہ میں ایک بڑے فرقہ وارانہ فساد کے لئے پورا ماحول بن گیا تھا۔ اس جھگڑے کو فرقہ وارانہ فساد بنانے کے لئے ماحول تیار کرنے میں باہر کے لوگوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا ۔ لگاتار دو روز سے قومی آواز کی ٹیم نے علاقہ کے دورہ کے دوران یہ پایا کہ باہر سے آنے والے سماج دشمن عناصر ماحول خراب کرنے میں بہت متحرک تھے ۔ کوڑیہ پل کے رہنے والے لوکیش کا کہنا تھا ’’باہر کا کیا ہوتا ہے اس معاملہ کو آپ لوگ باہر اور اندر کی طرح کیوں دیکھ رہے ہیں ۔ ہندو ؤں کے ایک مندر کو نقصان پہنچایا گیا ہے تو ملک کا کوئی بھی ہندو کیسے خاموش رہ سکتا ہے چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو ‘‘۔ ادھر خود کو صدر بازار کا بتانے والے وشال کا کہنا تھا ’’ بھگوان کس کے ہیں، بھگوان تو سب کے ہیں اس لئے یہ اندر باہر کچھ نہیں ہوتا‘‘۔ بجرنگ دل دو دن مستقل وہاں متحرک رہا جس کی وجہ سے حالات مستقل خراب رہے ۔ دہلی حکومت کے وزیر اور علاقہ کے رکن اسمبلی عمران حسین نے کہا ’’علاقہ کے سمجھدار لوگوں نے سماج دشمن عناسر کو شکست دی ہے اور اپنی دانشمندی سے علاقہ کی گنگا جمنی تہذیب کو بچایا ہے‘‘۔ پولیس کے ذریعہ حراست میں لئے گئے لوگوں کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا ’’ہم کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دیں گے اور مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا‘‘۔

مقامی مسجد کے امام مولانا یعقوب نے اس سارے معاملہ میں بہت فعال کردار ادا کیا اور درگا مندر کے پجاری سے بات کر کے معاملہ کو ختم کرنے کی گزارش کی ۔ سمجھوتہ کے بعد مولانا یعقوب کا کہنا تھا ’’آج کا دن میرے لئے عید کے دن سے بھی بڑا ہے جب دونوں ہندو اور مسلم بھائی ایک دودرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے پیار سے سماج دشمن عناصر کو شکست دی ہے ‘‘۔ درگا مندر کے پجاری نے کہا کہ ’’وہ دو دن کے حالات سے بہت بے چین تھے کیونکہ ہم سالوں سے مل جل کر ایک ساتھ رہتے آ رہے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’مندر کو جو نقصان ہوا ہے اس کو ہمارا سماج خود ٹھیک کرا لے گا اس میں ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے بس ہمیں امن کی ضرورت ہے ‘‘۔

علاقہ کے کچھ معزز افراد نے اس معاملہ کو ختم کرانے میں بہت اہم کردار ادا کیا جس میں بٹو کا کردار اہم تھا ۔ بٹو نے کہا ’’سالو سے ہم یہاں پیار و محبت کے ساتھ رہتے آئے ہیں ۔ ہم ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک رہے ہیں اور مجھے بہت خوشی ہے کہ سماج دشمن عناصر پیار و محبت میں دراڑ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں‘‘۔علاقہ کے ڈی سی پی رندھاوا نے قومی آواز کو بتایا ’’تمام فریقین کی موجودگی میں آپس میں سمجھوتہ ہو گیا ہے اور کل سے پوری مارکیٹ کھل جائے گی‘‘۔

واضح رہے30 جون کی رات کو ایک اسکوٹی کی پارکنگ کو لے کر دو لوگوں میں جھگڑا اور مار پٹائی ہوئی اور اتفاق سے دونوں افراد کا تعلق الگ الگ مذاہب سے تھا جس کی وجہ سے اس جھگڑے نے فرقہ وارانہ جھگڑے کی شکل اختیار کر لی تھی ۔ جہاں ایک طبقہ پر الزام ہے کہ اس نے درگا مندر پر پتھراؤ کیا اور مندر کو نقصان پہنچایا وہیں دوسرا طبقہ اس کی تردید کررہا ہے ۔ اس معاملہ میں پولیس نے کچھ گرفتاریاں کی ہیں ۔ جن افراد کے مابین جھگڑا ہوا تھا یعنی سنجیو اور آس محمد انہوں نے آپس میں سمجھوتہ کر لیا ہے ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔