تریپورہ و میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے کے خلاف پولیس اور خواتین کمیشن میں شکایت درج

شکایت کنندہ نے کہا کہ تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے پر انتخابات کے دوران کچھ بی جے پی لیڈروں کی طرف سے خواتین اور پیسے کا استعمال کرنے کے سنگین الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے

تتھاگت رائے، تصویر آئی اے این ایس
تتھاگت رائے، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کولکاتا: تری پورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر اور مغربی بنگال بی جے پی کے سابق صدر تتھاگت رائے کے ذریعہ یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے بڑے پیمانے پر روپے اور خواتین کا استعمال کیا ہے۔ اب کلکتہ میں مقیم ایک وکیل نے کلکتہ پولیس اور مغربی بنگال کمیشن برائے خواتین میں الگ الگ شکایتیں درج کرائی ہیں۔

شکایت کنندہ اور کلکتہ ہائی کورٹ کے وکیل سیون بنرجی نے کہا کہ رائے نے یہ الزامات ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے جس میں تری پورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے پر انتخابات کے دوران کچھ بی جے پی لیڈروں کی طرف سے خواتین اور پیسے کا استعمال کرنے کے سنگین الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بنرجی نے کہا کہ انہوں نے خواتین کے بارے میں تتھاگت رائے کے دعوے کے سلسلے میں مغربی بنگال کمیشن برائے خواتین میں ایک اور شکایت درج کرائی ہے۔


انہوں نے کہا کہ انہوں نے رقم کے لین دین اور خواتین کا استعمال کرنے کے سنگین الزمات لگائے ہیں۔ یہ تعزیرات ہند کے تحت قابل سزا جرم ہیں۔ بنرجی نے 19نومبر کو پولیس میں شکایت درج کرائی اور ایک ہفتہ بعد کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

دوسری جانب سابق گورنر رائے نے کہا کہ وہ اپنے ریمارکس پر قائم ہیں اور اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو، انہوں نے کہا کہ "ہاں، میں اس کے بارے میں جانتا ہوں... میں اس شخص سے پوچھوں گا جس نے شکایت کی ہے کہ انہیں قانون کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے۔ میں نے یہ بیان کس خاتون کے خلاف دیا ہے، کیا وہ اس کے بارے میں بتا سکتا ہے؟


رائے نے ہفتہ کو کہا تھا کہ انہوں نے فی الحال بی جے پی کی ریاستی اکائی کو الوداع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائے نے ہفتے کے روز مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر کہا تھا، ’’میں ٹوئٹر پر لوگوں سے تعریف حاصل کرنے کے لیے یہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں یہ پارٹی کو یہ بتانے کے لیے کر رہا ہوں کہ کچھ لیڈر خواتین اور پیسے کے اثر میں آ گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔