آگرہ میں ’لو جہاد‘ کے نام پر آتش زنی و توڑ پھوڑ، حالات کشیدہ

اکثریتی طبقہ کا کہنا ہے کہ 15 سالہ لڑکی سیمرا واقع اپنے نانیہال میں رہ کر پڑھائی کرتی ہے۔ وہ منگل کی صبح اسکول کے لیے نکلی لیکن راستے میں ہی اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے اغوا کر لیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے آگرہ واقع کھندولی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول اس وقت پیدا ہو گیا جب اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ مبینہ طور پر اقلیتی طبقہ کے لڑکوں کے ساتھ فرار ہو گئی۔ واقعہ 17 ستمبر کا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ رات ہوتے ہوتے اس پورے معاملے میں علاقہ کے حالات کافی خراب ہو گئے اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی۔ خبروں کے مطابق نویں درجہ کی طالبہ کو غیر طبقہ کے لڑکے بھگا لے گئے جس کے بعد تقریباً 200 لوگوں نے خاص طبقہ کی دکانوں اور مکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ شورش پسندوں نے کم و بیش ایک درجن دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا اور نصف درجن گھروں میں خوب توڑ پھوڑ کی۔

آگرہ میں ’لو جہاد‘ کے نام پر آتش زنی و توڑ پھوڑ، حالات کشیدہ

میڈیا ذرائع کے مطابق منگل کی دیر رات پولس نے طالبہ کو برآمد ضرور کر لیا اور ساتھ ہی ایک ملزم کو بھی گرفتار کر لیا، لیکن فرقہ وارانہ کشیدگی برقرار ہے۔ دراصل 15 سالہ طالبہ کھندولی کے سیمرا واقع اپنے نانیہال میں رہ کر پڑھائی کرتی ہے۔ منگل کی صبح وہ اسکول گئی تھی لیکن لوٹ کر گھر واپس نہیں آئی۔ بعد ازاں دوپہر ایک بجے اس کی تلاش شروع ہوئی اور دو بجے یہ افواہ پھیل گئی کہ لاپتہ لڑکی کے ماما کے پاس ملزم کا دھمکی بھرا فون آیا ہے کہ پولس کو مت بتانا۔ خبر یہ بھی پھیلی کہ دو ملزمین کچھ دنوں سے گھر کا چکر لگا رہے تھے۔ اس وجہ سے شک گہرا ہو گیا اور تھانہ میں تین لڑکوں کے خلاف تحریر دے دی گئی۔ شام تک جب پولس نے کارروائی نہیں کی تو لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور انھوں نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔

ہنگامہ کی خبر ملنے کے بعد پولس آئی جی ستیش گنیش اور ضلع مجسٹریٹ سمیت دس تھانوں کی پولس اور پی اے سی کے جوان موقع پر پہنچ گئے۔ اس درمیان فساد کے خوف سے اقلیتی طبقہ کے کم و بیش 50 لوگ گاؤں سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ چلے گئے۔ ستیش گنیش نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ غائب طالبہ کی برآمدگی کر لی گئی ہے اور پورے معاملے کی چھان بین ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کی تلاش جاری ہے اور قصورواروں کی گرفتاری جلد ہوگی۔

اس سے قبل اکثریتی طبقہ نے الزام عائد کیا کہ سیمرا گاؤں کے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے دانیش، عادل اور قیس کا ہاتھ ہے۔ یہ شک اس لیے گہرایا کیونکہ یہ لڑکے کئی دنوں سے گلی میں چکر کاٹ رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب طالبہ کے اغوا کی خبر اس کے گھر والوں نے پولس کو دی تو اس کے بعد ملزمین کا ایک فون آیا جس میں کہا گیا کہ لڑکی ان کے پاس ہے اور اگر پولس کارروائی نہ کی جائے تو بچی رات 12 بجے انھیں مل جائے گی۔ اس فون کی خبر بھی پولس کو دی گئی۔ اکثریتی طبقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب بتانے کے باوجود جب پولس نے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا تو لوگوں میں ناراضگی پیدا ہو گئی اور وہ سڑکوں پر نکل گئے۔

بہر حال، علاقے میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ این جی روی کمار اور ایس ایس پی ببلو کمار گاؤں میں ہی کیمپ کیے ہوئے ہیں۔ پی اے سی اور پولس فورس تعینات ہے۔ ہنگامہ کے بعد گاؤں چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ دیر رات تک ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی گاؤں میں موجود رہے۔