مغربی بنگال میں بی جے پی کا مذہبی کارڈ نہیں چلا: تجزیہ

بنگال میں خواتین کےلئے ممتا بنرجی پہلی پسند ابھر کر سامنے آئیں جبکہ بی جے پی مسلسل ممتا بنرجی کی ذات پر حملہ کرتی رہی ۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

مغربی بنگال میں بی جے پی کو شکست دے کر ترنمول کانگریس نے ایک زبردست جیت حاصل کرلی ہے۔لوک سبھا انتخابات میں 42سیٹوں میں سے 18سیٹیں جیتنے کے باوجود بی جے پی صرف 75سیٹوں پر ہی جیت حاصل کرسکی ہے۔ اگر نتائج کا تجزیہ کیا جائے تو پہلے تین مرحلے کی گنتی کے بعد بی جے پی بچھڑتی چلی گئی ہے ۔

دراصل ایک طرف ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیس میں اضافہ ہورہا تھا اور دوسری طرف وزیرا عظم مودی، مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ، اترپردیش کے وزیرا علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سنگھ بنگال میں ریلیاں کررہے تھے۔اس کی وجہ سے جہاں ملک بھر میں ناراضگی بڑھی تو اس کا اثر بنگال میں بھی دیکھنے کو ملا ۔آخری تین مرحلے کی پولنگ میں تو بی جے پی کا پوری طرح صفایا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ ، بی جے پی کے پاس وزیر اعلی ممتا بنرجی جیسا مقبول چہرہ بھی نہیں تھا۔ انتخابات سے قبل پارٹی کے بہت سارے سینئر رہنماؤں نے مشورہ دیا تھا کہ دلیپ گھوش کووزیرا علیٰ کے طور پر پیش کیا جائے ۔مگر پارٹی نے ایسا کرنے کے بجائے مرکزی قیادت مودی اور امت شاہ کے چہروں کی بنیاد پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ۔


دوسرے یہ کہ بنگال میں پولرائزیشن کی حکمت عملی بھی کام نہیں آئی۔نندی گرام سے لے کر اخیر تک بی جے پی ممتا بنرجی پر ایک خاص فرقہ کےلئے کام کرنے کاالزام لگاتی رہی۔بی جے پی بنگال نےانتخابات میں جے شری رام کے نعرے کا ممتابنرجی کے خلاف استعمال کیا مگر ممتا بنرجی منتر بڑھ کر اس نعرے کا کاٹ کرنے میں کامیاب ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ بنگال میں مذہبی سیاست کےلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بنگال میں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے۔

یہ خیال کیا جارہا تھا کہ بنگال میں ہندو ووٹروں کو متحد کرنے اورانتخاب کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی حکمت عملی کا بی جے پی کو فائدہ ہوگالیکن نتیجہ اس کے برعکس آیا ۔ سیتل کوچی فائرنگ اور بی جے پی قائدین کے بیانات نے مسلم ووٹوں کو متحد کردیا۔ تاہم ، سیاسی ماہرین کا ایک حلقہ یہ بھی مانتا ہےکہ بی جے پی نےگرچہ ٹی وی چینلوں پر فرقہ وارانہ ماحول بنادیا تھا مگر حقیقت میں زمینی سطح پر ایسا کوئی ماحول نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ممتا بنرجی نےپارٹی چھوڑ کر جانے والوں کو اس طرح پیش کیا کہ جیسے انہوں نے غداری کی ہے ۔’یہ غداری اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ بے ایمان ہیں‘ ۔بی جے پی نے بھی ترنمول کانگریس چھوڑ کر آنے والوں کو ترجیح دے کر ممتا بنرجی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو ہلکا کردیا۔


ترنمول کانگریس کے لوگوں کو ٹکٹ دینے پر پارٹی میں بھی بڑے پیمانے پر ناراضگی دیکھنے کو ملی اور کئی مقامات پر بی جے پی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کی وجہ سے بی جے پی کو کئی مرتبہ امیدوار تبدیل کرنے پڑے ۔پرانے لیڈروں کوٹکٹ دینے کے بجائے دوسری پارٹیوں سے آئے لیڈروں پر زیادہ اعتماد پارٹی کی داخلی پھوٹ کی ایک بڑی وجہ بن گئی۔انتخابی نتائج یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ان کے خاموش ووٹرز نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا۔ دراصل ، بہار انتخابات کے بعد ، پی ایم مودی نے خاص طور پر ملک کی خواتین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں بی جے پی کا خاموش ووٹر قرار دیا تھا۔لیکن بنگال میں بی جے پی کا ووٹ بینک پھسلتا ہوا نظر آیا۔ بنگال میں خواتین کےلئے ممتا بنرجی پہلی پسند ابھر کر سامنے آئیں۔بی جے پی مسلسل ممتا بنرجی کی ذات پر حملہ کررہی تھیں ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔