جسٹس قریشی کے پرموشن پر مرکزی حکومت نہیں لے پائی فیصلہ، سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگا

عدالت عظمی وکیلوں کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں مرکزی حکومت کو جسٹس قریشی کے پرموشن کے سلسلے میں کالیجئم کی دس مئی کی سفارش پر کارروائی کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آج بتایا کہ بمبئی ہائی کورٹ کے جج جسٹس عقیل قریشی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر پرموشن کی سپریم کورٹ کالیجیئم کی سفارش پر وہ ایک ہفتے کے اندر فیصلہ لے گی۔

مرکزی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی بنچ کو بتایا کہ جسٹس قریشی کے پرموشن کے سلسلے میں کالیجئم کی سفارش پر ایک ہفتہ میں فیصلہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت اگلے ہفتہ تک کے لئے ملتوی کر دی۔

عدالت عظمی نے گزشتہ دو اگست کو گجرات ہائی کورٹ کے وکلا کی تنظیم کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کو اس سلسلے میں 14 اگست تک کوئی فیصلہ کرنے کے لئے کہا تھا۔ بنچ نے مرکز کو یہ مدت اس وقت دی تھی جب مہتا نے اسے بتایا تھا کہ پارلیمان کے اجلاس میں توسیع کردی گئی ہے۔ ایسے میں حکومت کو کم سے کم دس دن کا مزید وقت دیا جانا چاہیے۔ بنچ نے اس وقت کہا تھا”آپ کو جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ کریں اور عدالت کے سامنے اسے پیش کریں۔“

عدالت عظمی وکیلوں کی تنظیم کی طرف سے دائر مفادعامہ کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں مرکزی حکومت کو جسٹس قریشی کے پرموشن کے سلسلے میں کالیجئم کی دس مئی کی سفارش پر کارروائی کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے 22 جولائی کو جسٹس قریشی کے نام کی سفارش پر فیصلہ کرنے کے لئے دو ہفتہ کا وقت مانگا تھا۔ کالیجئم نے گذشتہ دس مئی کو یہ سفارش کی تھی لیکن حکومت نے اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔