دہلی-این سی آر میں سردی اور آلودگی کا دوہرا حملہ، محکمۂ موسمیات نے الرٹ کیا جاری

دہلی-این سی آر میں شدید سردی، گھنا کہرا اور بڑھتی آلودگی نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے احتیاط کی ہدایت دی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی اور قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) میں شدید سردی کی لہر بدستور جاری ہے، جس کے ساتھ فضائی آلودگی نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ موسم میں اچانک تبدیلی کے سبب کم سے کم درجۂ حرارت میں تقریباً 6 ڈگری سیلسیس تک کمی درج کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کو شدید سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صبح اور رات کے اوقات میں گھنے کہرے کے باعث حدِ نگاہ میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے سڑک اور ریل کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق 29 جنوری کو این سی آر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت تقریباً 18 ڈگری اور کم سے کم 7 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔ اس دن صبح کے وقت گھنے کہرے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ 30 جنوری کو زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 19 ڈگری اور کم سے کم 8 ڈگری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ اس روز کہرا معتدل رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔


محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ 31 جنوری اور یکم فروری کو موسم مزید کروٹ لے سکتا ہے۔ 31 جنوری کو زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 20 ڈگری اور کم سے کم 7 ڈگری رہنے کا اندازہ ہے، اس دوران ہلکی بارش یا گرج چمک کے ساتھ بونداباندی اور تیز جھونکے دار ہوائیں چل سکتی ہیں۔ یکم فروری کے لیے خصوصی الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت صبح سے رات تک گرج چمک کے ساتھ بارش، بجلی گرنے اور تیس سے چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ اس روز درجۂ حرارت 18 سے 12 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہ سکتا ہے۔

سردی اور بدلے ہوئے موسم کے ساتھ فضائی آلودگی بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دہلی کے کئی علاقوں میں فضائی معیار اشاریہ انتہائی خراب سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نوئیڈا اور غازی آباد کے بیشتر علاقوں میں بھی ہوا کا معیار تشویشناک حد تک خراب رہا، اگرچہ کچھ مقامات پر صورتحال نسبتاً بہتر دیکھی گئی۔

محکمۂ موسمیات اور آلودگی کنٹرول بورڈ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، بزرگوں اور بچوں کا خاص خیال رکھیں اور بارش و تیز ہواؤں کے دوران مکمل احتیاط برتیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔