سنگھو بارڈر پر ایک جانب کی سڑک خالی کریں کسان: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سونی پت کے ڈپٹی کمشنر للت سیواچ کنڈلی-سنگھو بارڈر پر کسانوں کے درمیان پہنچے اور عدالتی حکم اور عام لوگوں کو ہو رہی پریشانی کا حوالہ دے کر کسانوں سے سڑک خالی کرنے کی اپیل کی

سنگھو بارڈر کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
سنگھو بارڈر کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز کنڈلی - سنگھو بارڈر پر دھرنا دے رہے کسانوں سے ایک جانب کی سڑک خالی کرنے کو کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ مفاد عامہ عرضی پر سماعت کے دوران سنایا۔ کورٹ نے سونی پت ضلع انتطامیہ کو حکم دیا کہ قومی شاہراہ 44 پر کنڈلی سنگھو بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کسانوں سے ایک جانب کا راستہ عام لوگوں کو دلایا جائے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سونی پت کے ڈپٹی کمشنر للت سیواچ کنڈلی-سنگھو بارڈر پر کسانوں کے درمیان پہنچے۔ انہوں نے عدالتی حکم اور عام لوگوں کو ہو رہی پریشانی کا حوالہ دے کر کسانوں سے سڑک خالی کرنے کی اپیل کی۔

کنڈلی سنگھو بارڈر پر ایک جانب کی سڑک کھلوانے کے حوالہ سے مونیکا اگروال نے مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس عرضی پر سماعت کرتےھ ہوئے عدالت نے قومی شاہراہ 44 پر کنڈلی سنگھو بارڈر پر ایک جانب کا راستہ عام لوگوں کے لئے کھلوانے کا حکم جاری کیا ہے۔


مونیکا نے عرضی دائر کر کے کہا تھا کہ نوئیڈا سے دہلی جانے میں اب اسے 20 منٹ کی جگہ 2 گھنٹے لگتے ہیں اور ایسا کسانوں کی طرف سے لگائے گئے سڑک جام کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ایس کے کول نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ آپ اس مسئلہ کو حل کیوں نہیں کر پا رہے۔ کسانوں کو مظاہرہ کرنے کا حق لیکن سڑکوں پر ٹریفک کو روکا نہیں جا سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔