قومی

کشمیر میں نیشنل کانفرنس نے تینوں نشستوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے

سال 2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں وادی کی تینوں نشستوں پر پی ڈی پی نے قبضہ جمایا تھا، لیکن اس بار اس کے برعکس ہوا اور نیشنل کانفرنس نے تینوں نشستیں حاصل کرلیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر کی سب سے بڑی اور پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس نے پارلیمانی انتخابات میں وادی کشمیر کی تینوں نشستوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر اپنی شان رفتہ کو بحال کیا ہے۔

سال 2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں وادی کی تینوں پارلیمانی نشستوں پر پی ڈی پی نے قبضہ جمایا تھا اور نیشنل کانفرنس کا کلین سویپ ہوا تھا۔ اب کی بار اس کا عین برعکس ہوا اور نیشنل کانفرنس نے تینوں نشستیں حاصل کیں اور پی ڈی پی کا اسی طرح کیلن سویپ ہوا جس طرح سال 2014ء میں نیشنل کانفرنس کا ہوا تھا۔

نیشنل کانفرنس کے جن امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ان میں پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہائی پروفائل سری نگر پارلیمانی نشست جیت لی، محمد اکبر لون نے بارہمولہ پارلیمانی نشست پر قبضہ کیا جبکہ حال ہی میں میدان سیاست میں وارد ہونے والے جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے اننت ناگ پارلیمانی نشست پر کامیابی کا جھنڈا گاڑا اور جن سیاسی سورماؤں کو ان انتخابات میں ہار کا منہ دیکھنا پڑا ان میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید خاص طور پور قابل ذکر ہیں۔

اگرچہ بارہمولہ پارلیمانی نشست کے لئے پیپلز کانفرنس کے امیدوار راجا اعجاز علی کو ایک مضبوط دعویدار کے بطور مانا جاتا تھا لیکن بالآخر نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر لون نے ہی بازی مار لی۔

ادھر سری نگر میں واقع نیشنل کانفرنس کے ہیڈ کوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی کی شاندار جیت پر جشن کا سماں دیکھا گیا۔ پارٹی کے لیڈران و کارکنان صبح سے ہی ٹی وی اسکرینوں سے چمٹے ہوئے تھے اور جیت کے اعلان کے ساتھ ہی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں ووٹوں کے گنتی کے مراکز کے باہر بھی نیشنل کانفرنس کے لیڈروں اور کارکنوں کو جشن مناتے ہوئے دیکھا گیا۔

سری نگر پارلیمانی نشست پر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پی ڈی پی کے آغا محسن کو قریب 70 ہزار ووٹوں کے فرق سے ہرایا، ڈاکٹر فاروق نے مجموعی طور پر 1 لاکھ 6 ہزار719 ووٹ حاصل کیے جبکہ آغا محسن نے 36 ہزار 700 ووٹ حاصل کیے پیپلز کانفرنس کے عرفان انصاری 28 ہزار773 ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے۔ جبکہ نوٹا کے حق میں 1 ہزار 566 ووٹ ڈالے گئے۔
اس پارلیمانی حلقے میں جو دیگر امیدوار اپنے سیاسی قسمت کو آزما رہے تھے ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خالد جہانگیر، نیشنل پینتھرس پارٹی کے عبدالرشید گنائی، جنتا دل یونائیٹڈ کے شوکت حسین خان، شیو سینا کے عبدالخالق بٹ، راشٹر یہ جن کرانتی پارٹی کے نذیر احمد لون، مانو ادھیکار نیشنل پارٹی کے نذیر احمد صوفی کے علاوہ آزاد امیدوار بلال سلطان، سجاد احمد ڈار اور عبدالرشید بانڈے شامل تھے۔ بی جے پی امیدوار شیخ خالد جہانگیر 4 ہزار 631 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے مائیگرنٹ ووٹوں کی تعداد 1962 ہے۔

اننت ناگ پارلیمانی نشست پر نیشنل کانفرنس کے نو خیز سیاسی لیڈر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کانگریس کے سینئر سیاسی لیڈر غلام احمد میر کو زائد 7 ہزار ووٹوں کے فرق سے ہرایا، حسنین مسعودی نے کل 40 ہزار32 ووٹ حاصل کیے جبکہ غلام احمد میر کے کھاتے میں 32 ہزار879 ووٹ آئے اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے 30 ہزار223 ووٹ حاصل کرکے تیسرا مقام حاصل کیا۔

بتادیں کہ گذشتہ عام انتخابات میں محبوبہ مفتی نے اننت ناگ پارلیمانی سیٹ بھاری مارجن سے جیت لی تھی۔