جدید کنوؤں سے لوگوں تک پہنچے گا پینے کا شفاف پانی: ستیندر جین

دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کہا کہ کیجریوال حکومت نے سونیا وہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے کیمپس میں جدید طور پر ڈیزائن کیے گئے 30 کنوؤں کی تعمیر کی ہے، یہ کنویں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت بنائے گئے تھے۔

دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین
دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی کے وزیر آب وزیر ستیندر جین نے کہا کہ ان کی حکومت کے ذریعہ جدید تکنیک سے بنائے گئے کنوؤں کی مدد سے مشرقی دہلی کے لاکھوں لوگوں تک پینے کا صاف پانی پہنچ سکے گا۔ ستیندر جین نے منگل کو یہاں سونیا ویہار واقع دہلی جل بورڈ کے مختلف اداروں کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے یہاں نو تعمیر شدہ ’ماڈرن رینی ویل‘ (جدید کنواں) کا معائنہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت دہلی نے یہاں 30 ’ماڈرن ایکس ٹریکشن ویل‘ یعنی جدید کنوؤں کی تعمیر کی ہے جو عام کنوو¿ں کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ’ایکس ٹریکشن ویل‘ ان کنوؤں کو کہاجاتا ہے جہاں سے پانی نکال کر اسے ٹریٹ گھروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان جدید کنوو¿ں کی تعمیرسے پانی سپلائی اب 25-30 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ ہر ایک کنویں کی صلاحیت یومیہ 1.2 سے 1.6 ملین گیلن پانی سپلائی کرنے کی ہے۔ اس سے مشرقی دہلی کے علاقوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کیا جاسکے گا۔


ستیندر جین نے کہا کہ کیجریوال حکومت نے سونیا ویہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے کیمپس میں جدید طور پر ڈیزائن کیے گئے 30 کنوؤں کی تعمیرکی ہے۔ یہ 30 کنویں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت بنائے گئے تھے۔ جس کا مقصد یہ جانناتھا کہ کیا نئے اور جدید تکنیک کا استعمال کرکے پانی کی فراہمی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ صد فیصد کامیاب رہا اور دہلی حکومت اب کیمپس میں ایسے مزید 70 کنوو¿ں کی تعمیر کرے گی۔

وزیر آب نے کہا کہ جدید رینی ویل کے توسط سے پانی کی فراہمی بڑھانے میں مدد ملے گی اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کو سپلائی کیے جانے والے پانی کی مقدار میں زبردست اضافہ ہوگا۔ یہ ایک مثال ہے کہ اگر سبھی محکمے ساتھ مل کر کسی کام کو کریں تو نہ صرف کام کو جلد مکمل کیا جا سکتا ہے بلکہ اس میں اختراع کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔