دسویں کے طلبا کو اب نہیں پڑھنا ہوگا ’انوائرنمنٹل ایجوکیشن‘، سی بی ایس ای کا نیا سرکلر جاری
بورڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ نیا سرکلر اور نصاب میں کی گئی تبدیلیاں فی الحال دسویں جماعت میں زیر تعلیم طلبا پر نافذ نہیں ہوں گی۔

سی بی ایس ای نے نویں اور دسویں جماعت کے نصاب اور امتحان کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے نئے سرکلر کے تحت اسکولی تعلیم کے ڈھانچے کو جدید اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے قابل بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس نئے ضابطے کے تحت دسویں جماعت کے طلبا کے نصاب سے ایک اہم مضمون کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی طلبا کے لیے نئے مضامین کو لازمی بھی قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے یہ فیصلہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔
سی بی ایس ای کے نئے سرکلر کے مطابق اب دسویں جماعت کے نصاب سے ماحولیاتی تعلیم (انوائرنمنٹل ایجوکیشن) کے مضمون کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس مضمون کو ہٹانے کے ساتھ ہی طلبا کے لیے پیشہ ورانہ تعلیم (ووکییشنل ایجوکیشن) کو مکمل طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس کے پیچھے بورڈ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طلبا کتابی علم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ اور عملی مہارتیں بھی سیکھ سکیں تاکہ مستقبل میں انہیں بہتر کریئر بنانے میں مدد ملے۔
نئے ضابطہ کے مطابق جو طلبا تعلیمی سیشن 27-2026 میں نویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں، ان پر یہ نیا ضابطہ اس وقت مکمل طور پر نافذ ہوگا جب وہ تعلیمی سیشن 28-2027 میں دسویں جماعت میں پہنچیں گے۔ ان طلبا کو اب مجموعی طور پر 9 مضامین کی پڑھائی کرنی ہوگی۔ طلبا کو پیشہ ورانہ تعلیم کے تحت مہارتوں کی ترقی یا بورڈ کی جانب سے جاری کردہ 22 مہارت پر مبنی مضامین میں سے کسی ایک مضمون کا انتخاب کرنا ہوگا۔
سی بی ایس ای نے طلبا کی سہولت اور ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے لیے ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ نئے سرکلر کے مطابق، اب طلبا کے پاس بنیادی مضامین کے طور پر اعلیٰ سطح کی ریاضی (ایڈوانسڈ لیول میتھس) اور اعلیٰ سطح کی سائنس (ایڈوانسڈ لیول سائنس) منتخب کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔ جو طلبا آگے چل کر انجینئرنگ یا سائنسی تحقیق کے شعبے میں جانا چاہتے ہیں، وہ ان اعلیٰ سطح کے مضامین کا انتخاب کرکے اپنی بنیاد مضبوط کر سکتے ہیں۔
بورڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ نیا سرکلر اور نصاب میں کی گئی تبدیلیاں فی الحال دسویں جماعت میں زیر تعلیم طلبا پر نافذ نہیں ہوں گی۔ موجودہ دسویں جماعت کے طلبا کے بورڈ امتحانات پہلے سے طے شدہ پرانے طریقۂ کار اور نصاب کے مطابق ہی منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، بورڈ نے کامیابی کے لیے درکار کم از کم نمبروں کے تعلق سے پائی جانے والی الجھن بھی دور کر دی ہے۔ طلبا کو کامیاب قرار دیے جانے کے لیے پہلے کی طرح ہی پانچ بنیادی مضامین میں سے ہر ایک میں کم از کم 33 فیصد نمبر حاصل کرنا ہوں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
