یو پی تشدد: ’کاروانِ محبت‘ نے جاری کی یو پی کی نفرت انگیز اور دل دہلا دینے والی رپورٹ

شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے دوران اتر پردیش میں ہوئے تشدد کی جانچ کر رہی ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں اخذ کیا ہے کہ حکومت کی شہ پر پولس نے عام لوگوں پر مظالم کیے اور خصوصاً مسلم طبقہ کو نشانہ بنایا۔

تصویرسوشل میڈیا
تصویرسوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

(اس رپورٹ میں شامل کچھ تصویریں اور ویڈیو آپ کو پریشان کر سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو سماجی ادارہ ’کاروانِ محبت‘ سے حاصل کیے گئے ہیں۔)

اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے گزشتہ دنوں شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر بے انتہا ظلم ڈھائے۔ بربریت کرنے والوں میں پولس کے ساتھ ہی مقامی انتظامیہ اور میڈیکل افسر تک شامل تھے۔ یو پی کی پوری سرکاری مشینری نے نااتفاقی کی آوازوں کو نہ صرف بے رحمی سے کچلا بلکہ عوامی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور خصوصاً مسلم طبقہ کو جان بوجھ کر پرتشدد طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ انکشاف کیا ہے ’پیپلز ٹریبونل آن اسٹیٹ ایکشن اِن یو پی: سٹیزن شپ، ڈیموکریسی اینڈ پروٹیسٹ‘ نام کی کمیٹی نے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ سن اور پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ ’’جب ملک میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، این پی آر اور مجوزہ این آر سی کے خلاف لوگ پرامن مظاہرہ کر رہے تھے تو اتر پردیش میں نااتفاقی کی آوازوں کو دبانے اور پرامن مظاہرہ کر رہے لوگوں پر سرکاری مشینری نے بربریت کی حدیں پار کر دیں۔ لوگوں پر بربریت اور پولس مظالم کی بے شمار خبریں و داستانیں سامنے آئیں، جس کے بعد پیپلز ٹریبونل یعنی پبلک اتھارٹی کی تشکیل کر اس سب کی جانچ کرنے اور سچائی سامنے لانے کا فیصلہ لیا گیا۔‘‘

اتھارٹی کی انصاف کمیٹی کے سامنے لوگوں نے جو باتیں کہیں، اس سے کمیٹی بے حد متفکر اور ناراض ہے۔ کمیٹی کو اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ اتر پردیش میں پولس کی قیادت میں سرکاری مشینری کا استعمال کر ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران پولس نے تعصب کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کرنے والے گروپوں، مسلم آبادی اور سماجی کارکنان پر بربریت کی۔

اپنی جانچ کے دوران کمیٹی نے زمینی سطح پر جا کر لوگوں، وکیلوں، حقوق انسانی کے کارکنان، عوامی اداروں، ڈاکٹروں، چشم دید گواہوں سے بات کی۔ کمیٹی نے ان باتوں کو ویڈیو مین ریکارڈ بھی کیا ہے۔ جانچ میں جو کچھ سامنے آیا ہے، اس کے اہم نکات نیچے دیئے جا رہے ہیں۔

پولس تشدد اور بربریت:

انصاف کمیٹی نے اخذ کیا ہے کہ یو پی پولس نے مسلم طبقہ، پرامن مظاہرہ کرنے والے گروپوں کو بربریت سے نشانہ بنایا اور جو لوگ احتجاجی مظاہرہ میں شامل نہیں تھے، ان پر بھی مظالم ڈھائے گئے۔ پولس بربریت کے دوران جو کارروائیاں پولس کے ذریعہ ہوئیں وہ اس طرح ہیں...

  • احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں پر پولس نے تشدد کیا
  • بے قصور لوگوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف جھوٹے مقدمے لکھے گئے
  • عام لوگوں کی گاڑیوں اور ملکیت کو گھروں میں گھس کر نقصان پہنچایا گیا اور سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے۔
  • حراست میں لیے گئے لوگوں پر ظلم کرتے ہوئے کسی بھی افسر یا میڈیا کے سامنے منھ نہ کھولنے کی دھمکی دی گئی۔
  • متاثرین کو فرقہ پرستی پر مبنی گالیاں دی گئیں۔
  • نابالغوں تک کو حراست میں لے کر پیٹا گیا۔
  • بغیر کسی قانون کی پروا کیے غیر مسلح لوگوں پر گولی چلائی گئی اور ان کی جان لی گئی۔
  • میڈیکل افسروں اور اسپتال ملازمین کو زخمیوں کا علاج نہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ پولس مظالم، تشدد اور ملکیت کے نقصان کو لے کر متاثرین کی رپورٹ نہیں لکھی گئی، اور لکھی بھی گئی تو ان میں آدھی ادھوری جانکاری بھری گئی۔ اس کے برعکس ہزاروں نامعلوم لوگوں و مظاہرین کے خلاف رپورٹ لکھی گئی کہ وہ تشدد پر آمادہ تھے اور اس رپورٹ کی بنیاد پر انھیں دھمکیاں دی گئیں اور ان پر ظلم کیے گئے۔

سرکاری مشینری اور سیاست کا گٹھ جوڑ:

انصاف کمیٹی نے اخذ کیا کہ سیاسی اور انتظامی قیادت اس دوران پوری طرح ناکام ثابت ہوئی اور وہ پولس کے ذریعہ کیے جا رہے چوطرفہ تشدد و مظالم کو قابو میں نہیں کر سکا۔ کئی معاملوں میں انصاف کمیٹی نے پایا کہ وزیر اعلیٰ سطح تک کے سینئر سیاسی قیادت نے پولس کو مظاہرین کے خلاف سخت سے سخت فورس کا استعمال کرنے کے لیے اکسایا اور اس کے لیے ’بدلہ‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔

ٹریبونل کی جیوری اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے منمانے طریقے سے کئی اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر اور انٹرنیٹ خدمات بند کر شہری حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور پولس بربریت کو فروغ دیا ہے۔

ڈاکٹر طبقہ کا کردار:

جانچ کے دوران کئی لوگوں نے بتاپا کہ اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں نے پولس بربریت کے دوران زخمی ہوئے لوگوں کو ایمرجنسی میڈیکل سہولت دینے سے انکار کیا۔ یہاں تک کہ سنگین طور پر زخمی لوگوں کا بھی علاج نہیں کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ سب پولس اور انتظامیہ کے دباؤ میں کیا گیا۔ جیوری کا ماننا ہے کہ یہ آئین کی شق 21 کی خلاف ورزی ہے اور سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں اور بین الاقوامی سمجھوتوں کی اَن دیکھی ہے۔ ایسا تو جنگ کی حالت میں بھی نہیں کیا جاتا ہے۔

پولس بربریت کے شکار لوگوں پر اثر:

جیوری نے اخذ کیا کہ جو لوگ اس دوران پولس بربریت کا نشانہ بنے وہ اور ان کے اہل خانہ زبردست بے چینی کا شکار ہوئے ہیں۔ تشدد، گالی گلوج اور مکانوں کو توڑنے کی کارروائی سے پورے طبقہ میں خوف پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں سمجھنا ضروری ہے کہ جب حکومت ہی حملہ آور ہو تو پھر کسی میں بھی تحفظ کی امید نہیں رہ جاتی۔ انصاف کمیٹی کا ماننا ہے کہ متاثرین کو نہ تو کوئی ڈاکٹری مدد ملی اور نہ ہی کوئی قانونی مدد۔ ایسی حالت میں وہ بے چینی اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اگر وقت رہتے ان ایشوز پر دھیان نہیں دیا گیا تو آبادی کا ایک بڑا حصہ ڈپریشن میں چلا جائے گا۔

حقوق انسانی کے کارکنان پر حملہ:

پولس تشدد کے دوران کئی سماجی اور حقوق انسانی کارکنان، صحافیوں اور متاثرین کی مدد کی کوشش کرنے والے وکیلوں کو دھمکیاں دی گئیں اور انھیں ملک مخالف (اینٹی نیشنل) اور اَربن نکسل کہہ کر پریشان کیا گیا۔

نابالغوں اور کم عمر کے متاثرین کی تکلیف:

جیوری کا ماننا ہے کہ یو پی پولس ارو ریاستی انتظامیہ نے جوینائل جسٹس ایکٹ 2015 کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نابالغوں اور بچوں پر مظالم کیے۔ ان بچوں اور نابالغوں کی مدد کرنے والی ہر ایجنسی اپنا مقصد نبھانے میں ناکام رہی۔ ایسا سامنے آیا کہ قانون کی اَن دیکھی کی گئی۔

لوگوں سے نقصان کی بھرپائی کا حکم:

جانچ کے دوران سامنے آیا کہ پولس منمانے طریقے سے لوگوں سے ملکیت کے نقصان کی بھرپائی کے لیے نوٹس بھیج رہی ہے۔ ان نوٹس میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی کسی خاص جگہ یا ملکیت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس بغیر کسی قانونی عمل کو سامنے رکھ کر جاری کیے جا رہے ہیں۔ جب کہ اس بات کے ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ پولس خود ہی عام لوگوں کی ملکیت تباہ و برباد کرنے میں شامل رہی ہے۔