بہار: پٹنہ، کشن گنج اور گیا کی سول کورٹ کو آر ڈی ایکس سے اُڑانے کی دھمکی، خالی کرائے گئے کیمپس

کشن گنج سول کورٹ کو بھی بم سے اُڑانے کی دھمکی ملی ہے ۔ایس پی ساگر کمار نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ دھمکی تمل ناڈو سے آئی ہے۔ پولیس فی الحال تفتیش کر رہی ہے۔ عدالت کے منیجر نے دھمکی کی تصدیق کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل فوٹو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بہار کی راجدھانی پٹنہ سمیت ریاست کے 3 اضلاع کی سول عدالتوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایک ہی دن میں پٹنہ، کشن گنج اور گیا کی سول عدالتوں کو دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے سے افراتفری مچ گئی۔ یہ پیغامات عدالتوں کو ای میل کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر تینوں عدالتی احاطوں کو خالی کرا لیا گیا۔

پٹنہ میں اطلاع ملنے پر پیربہور تھانے کی پولیس، بم اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کردی۔ عدالت کے احاطے میں ہرجگہ کی مکمل تلاشی لی جارہی ہے۔ پٹنہ کی عدالت کو گزشتہ سال دو بار اسی طرح کی دھمکیاں ملی تھیں لیکن پولیس کو کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔


پٹنہ کے علاوہ کشن گنج سول کورٹ کو بھی بم سے اُڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ یہاں بھی دھمکی ای میل کے ذریعے آئی ہے۔ دھمکی کے بعد سول کورٹ میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ساگر کمار نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ دھمکی تمل ناڈو سے آئی ہے۔ پولیس فی الحال تفتیش کر رہی ہے۔ عدالت کے منیجر نے دھمکی کی تصدیق کی ہے۔

گیا سول کورٹ میں جب بم ہونے کی افواہ پھیلی تو اچانک خوف و ہراس پھیل گیا۔ ای میل کے ذریعہ اطلاع ملی کہ جمعرات کو دوپہر 2.30 بجے عدالت کو آرڈی ایکس سے اڑا دیا جائے گا۔ یہ دھمکی آمیز پیغام عدالت کے سرکاری ای میل پرآیا۔ اس دھمکی کے بعد پولیس کو الرٹ کر دیا گیا اور پورے احاطے کو خالی کرا لیا گیا۔ عدالت میں موجود تقریباً 10ہزار لوگوں کو باہر نکالا گیا۔ ڈاگ اسکواڈ کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے عدالت کے احاطے کی جانچ شروع کردی۔


ایڈوکیٹ مکیش کمار نے بتایا کہ عدالت کو آر ڈی ایکس سے اڑانے کی دھمکی دینے والا ای میل دوپہر 2:30 بجے عدالت کے ای میل پرآیا تھا۔ اس میں میسنجر نے اپنی شناخت ایل ٹی ٹی ای بتایا ہے۔ دھمکی کے بعد عدالت کے پورے کیمپس کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ ڈاگ اسکواڈ عدالت کے احاطے میں کھڑی ججوں اور وکلاء کی گاڑیوں کی چیکنگ کر رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔