زبردست مخالفت کے درمیان آج راجیہ سبھا میں پیش ہوگا شہریت ترمیمی بل، بگڑ سکتا ہے بی جے پی کا کھیل

شہریت ترمیمی بل لوک سبھا میں پاس ہو چکا ہے اور راجیہ سبھا میں آج اسے پیش کیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ شیوسینا سمیت کچھ پارٹیوں نے اپنا موقف بدلا ہے اس لیے اس ایوان میں یہ بل پاس ہونا مشکل ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لوک سبھا میں پیر کے روز بہ آسانی پاس ہونے والے شہریت ترمیمی بل کا اصل امتحان آج راجیہ سبھا میں ہوگا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آج دوپہر یہ بل راجیہ سبھا میں بحث کے لیے پیش کریں گے اور اس ایوان سے اس کو پاس کرانا مودی حکومت کے لیے زبردست چیلنج ہے۔ راجیہ سبھا دفتر نے اس بل پر بحث کے لیے 6 گھنٹے کا وقت مختص کیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ راجیہ سبھا میں آج کا دن ہنگامہ خیز ثابت ہونے والا ہے۔

لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل 2019 بہ 80 کے مقابلے 311 ووٹوں سے بہ آسانی پاس کرانے کے بعد بی جے پی بہت پرجوش نظر آ رہی تھی، لیکن منگل کو اسے اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب لوک سبھا میں بل پر ساتھ دینے والی شیوسینا نے راجیہ سبھا میں بی جے پی کے خلاف جانے کا اشارہ دے دیا۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ان کی پارٹی راجیہ سبھا میں اس بل کی اس وقت تک حمایت نہیں کرے گی جب تک اس بل سے متعلق اس کے کچھ سوالوں کا جواب نہیں ملتا۔

اس سے قبل این ڈی اے میں شامل اور لوک سبھا میں بل پر بی جے پی کا ساتھ دینے والی نتیش کمار کی جنتا دل یو میں بھی اس بل کی حمایت پر مخالفت شروع ہونے سے راجیہ سبھا میں پارٹی کے رخ کو لے کر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ جنتا دل یو کے پرشانت کمار اور پون ورما نے منگل کو کھل کر لوک سبھا میں بل کی حمایت کو لے کر پارٹی کے فیصلے پر سوال کھڑے کر دیے جس کے بعد جنتا دل یو میں بھی راجیہ سبھا میں پارٹی کے رخ کو لے کر کشمکش کی حالت ہے۔ ایسے میں کہا نہیں جا سکتاکہ راجیہ سبھا میں پارٹی کا رخ کیا ہوگا۔

حالانکہ جہاں تک تعداد کی بات ہے تو راجیہ سبھا میں فی الحال نمبر این ڈی اے اتحاد کے حق میں نظر آ رہا ہے۔ ویسے اپوزیشن اراکین کی تعداد بھی برسراقتدار طبقہ کے آس پاس ہی ہے۔ یہاں بتا دیں کہ راجیہ سبھا میں کل 245 اراکین ہیں۔ فی الحال پانچ سیٹیں خالی ہونے کی وجہ سے کل تعداد 240 ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر اگر دیکھا جائے تو شہریت ترمیمی بل کو پاس کرانے کے لیے 121 ووٹوں کی ضرورت پڑے گی اور اس بل کو گرانے کے لیے بھی اپوزیشن کو اتنے ہی ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

پارٹیوں کے مطابق بات کریں تو اس وقت راجیہ سبھا میں این ڈی اے کی طرف بی جے پی 83، اے آئی اے ڈی ایم کے سے 11، بی جے ڈی سے 7، جنتا دل یو کے 6، اکالی دل کے 3، آر بی آئی سے 1، ایل جے پی سے 1، وائی ایس آر کانگریس سے 2، ٹی ڈی پی سے 2، اے جی پی سے 1، بی پی ایف سے 1، این پی ایف سے 1، ایس ڈی ایف سے 1، 3 نامزد رکن اور دیگر 4 اراکین کے ساتھ کل 127 اراکین پارلیمنٹ ہیں جو بل کے حق میں ووٹ کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف اس بل کے خلاف اپوزیشن کی طرف کانگریس کے 46، ٹی ایم سی سے 13، ایس پی سے 9، ٹی آر ایس سے 6، سی پی ایم سے 5، ڈی ایم کے سے 5، این سی پی سے 4، بی ایس پی سے 4، آر جے ڈی سے 4، عآپ سے 3، سی پی آئی سے 1، آئی یو ایم ایل سے 1، پی ڈی پی سے 2، جے ڈی ایس سے 1، کیرالہ کانگریس ایم سے 1، ایم ڈی ایم کے سے 1، پی ایم کے سے 1، شیو سینا سے 3، ایک نامزد رکن اور 2 آزاد و دیگر کے ساتھ کل 113 اراکین ہو رہے ہیں۔

ایسے میں بھلے ہی بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ راجیہ سبھا میں 127 اراکین پہلے سے ہی اس بل کی حمایت کر رہے ہیں اور امید ہے کہ مزید پارٹیاں بھی اس کے ساتھ جڑیں گی، لیکن شیوسینا سمیت دیگر پارٹیوں کے رخ کو دیکھ کر بی جے پی کو راجیہ سبھا سے اس بل کو پاس کرانا فی الحال ٹیڑھی کھیر ہی نظر آ رہا ہے۔ یہاں یہ دھیان رکھنے والی بات ہے کہ مودی حکومت کے گزشتہ دور میں تعداد کی کمی کے سبب ہی راجیہ سبھا میں یہ بل آگے نہیں بڑھ پایا تھا۔

Published: 11 Dec 2019, 9:12 AM