شہریت بل: شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری، اب تک 2 افراد ہلاک، 14 زخمی

شہریت بل پر شمال مشرقی ریاستوں میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ہزاروں کی تعداد میں طلباء سڑکوں پر ہیں، گوہاٹی میں بڑی تعداد میں لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شہریت ترمیمی بل کے خلاف آسام میں جو پُر تشدد مظاہروں کا جو سلسلہ شروع ہوتا تھا وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور جمعہ کی صبح گوہاٹی کے علاقے چاندماری میں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے ذریعہ رکھی گئی بھوک ہڑتال میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ اس سے قبل گوہاٹی میں ہی جمعرات کی شام ہزاروں افراد کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرےبازی کی۔ دریں اثنا، پولس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی جس میں 2 مظاہرین ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے، تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

مظاہرین نے جمعرات کے روز ایک بی جے پی رکن اسمبلی کے گھر، گاڑیوں اور دفتر کو نذر آتش کر دیا۔ اس پر حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے گوہاٹی کے پولس کمشنر سمیت چیف پولس آفیسر کو معطل کر دیا۔ گوہاٹی اور شیلونگ میں تاحال کرفیو جاری ہے، جبکہ آسام کے ڈبروگڑھ میں صبح 8 بجے سے شام ایک بجے تک کرفیو میں نرمی کر دی گئی ہے۔ تشدد کا سلسلہ تیز ہونے کے پیش نظر ریاستی انتظامیہ نے 10 اضلاع میں عائد انٹرنیٹ کی پابندی میں اگلے 48 گھنٹوں کی توسیع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر آسام اور تریپورہ کے بعد اب میگھالیہ میں بھی موبائل انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات پر روک لگا دی گئی۔ حالت خراب ہونے کی وجہ سے گوہاٹی سمیت آسام کے متعدد شہروں میں فوج کے جوان تعینات کر دیئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پُر تشدد احتجاج کے درمیان گزشتہ رات صدر ہند نے شہریت ترمیمی بل کو منظوری دے دی، جس کے بعد یہ بل قانون میں تبدیل ہو گیا۔ اس ہفتہ پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا سے اس بل کو منظور کرنے کے بعد صدر کے پاس منظوری کے لئے بھیجا گیا تھا۔