شہریت ترمیمی قانوں: علی گڑھ میں خواتین مظاہرین کا ویڈیو بنانے کو لے کر ہوا ہنگامہ

شدت پسند تنظیم کا نوجوان ونے احتجاجی خواتین کا ویڈیو بنا رہا تھا، کسی نے اس کا موبائل لے لیا، اسی بات پر ونے بھڑک گیا اور اس نے اپنی کھوکھے نما دکان میں لوٹ و آگ لگائے جانے کی افواہ پھیلا دی

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

ابو ہریرہ

علی گڑھ: ملک بھر میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہو رہے دھرنا و احتجاج کی طرح علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کے بعد شہر میں متعدد مرتبہ الگ الگ دھرنا و احتجاج ہو رہے ہیں، اسی سمت میں شہر کے علاقہ شاہ جمال میں بھی دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر خواتین کا دھرنا گزشتہ 25 روز سے زائد مدت سے جاری ہے۔

گزشتہ ایک روز قبل تیز آندھی اور بارش کے ساتھ برف باری کے سبب دھرنے پر موجود خواتین نے خیمہ لگانے کے لئے ترپال یا موم جامہ لگانے کی کوشش کی، تو موقع پر موجود پولیس فورس نے انہیں تیز بارش کے با وجود یہ سب لگانے سے روک دیا اس سے ناراض خواتین نے کل صبح اوپر کوٹ کوتوالی کا گھراؤ کرتے ہوئے حکومت کی سازش قرار دیا و ضلع انتظامیہ سے دھوپ و بارش سے بچاؤ کے لئے ترپال لگانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا، کئی راؤنڈ کے مذاکرے کے بعد شاہ جمال میں ترپال لگانے کی اجازت دے دی گئی۔

اوپر کوٹ پر خواتین اس کے بعد بھی جمع تھیں اسی درمیان ترکمان گیٹ کی جانب سے آنے جانے والے مرد و خواتین کی ویڈیو اپنے موبائل سے ونے نام کے ایک نوجوان کے بنائے جانے پر علاقائی لوگوں نے اعتراض کیا، لیکن وہ ویڈیو بناتا رہا، کسی نے اس کے ہاتھ سے موبائل لے لیا، اسی بات پر ونے بھڑک گیا اور اس نے اپنی کھوکھے نما دکان میں لوٹ و آگ لگائے جانے کی افواہ پھیلا دی، جس کی وجہ سے بجرنگ دل و بی جے پی سمیت تمام شدت پسند تنظیموں کے افراد جمع ہو گئے اور انہوں نے پولیس و ضلع انتظامیہ کو اطلاع دے کر ہنگامہ کرنا شروع کر دیا، دیکھتے ہی دیکھتے بازار بند ہو گئے، حالانکہ اوپر کوٹ و آس پاس کے بازار پہلے سے ہی بند تھے، پولیس نے جمع بھیڑ کو دوڑانا شروع کر دیا یہاں تک کہ خواتین و بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا ان پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے، دوسری جانب سے بھی پولس پر پتھراؤ کیا گیا۔

دونوں جانب سے ہوئے لاٹھی چارج و پتھراؤ میں پولس و پبلک کے دونوں جانب سے افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے، پولس و ضلع انتظامیہ کی جانب سے کئی سو افراد کے خلاف آگ زنی و پتھراؤ و فائرنگ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، حالات مکمل طور پر قابو میں بتائے جا رہے ہیں، شہری علاقہ کا انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے جبکہ ضلع مجسٹریٹ و ایس ایس پی کی جانب سے کسی بھی طرح کی افواہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کیے جانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، شہر کو حفاظتی انتطامات کے تحت کرفیو جیسے حالات میں تبدیل کر دیا گیا ہے، پورے اوپر کوٹ و آس پاس کے علاقہ میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔