شہریت ترمیمی بل ’اسرائیل والی ذہنیت‘ کے تحت لایا گیا: اے ایم یو طلباء یونین

اے ایم یو میں سی اے بی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور اے ایم یو طلباء یونین کے صدر سلمان امتیاز نے کہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس بل کو یکسر مسترد کرتی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

علی گڑھ: شہری ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں ہو رہے احتجاج کے درمیان ملک کے مایہ ناز تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی جانب سے بھی شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اے ایم یو میں بھی اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اے ایم یو طلباء یونین کے صدر سلمان امتیاز نے کہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس بل کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

مودی کابینہ کی منظوری کے بعد شہریت ترمیمی بل 2019 لوک سبھا سے منظور ہو چکا ہے۔ اس بل کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہندوستان میں شہریت دی جائے گی کیوں کہ یہ سب اپنے ملکوں میں اقلیت ہیں۔ اس بل سے مسلمانوں کو استثنی رکھا گیا ہے۔

سلمان امتیاز کے مطابق اس بل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سازش کی جارہی ہے، یہ بل ہندوستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور جو لوگ اس بل کی حمایت کرتے ہیں وہ ملک کے غدار اور ہندوستانی کو مذہب کے نام پر توڑنا چاہتے ہیں۔

سلمان امتیاز نے اس بل کی حمایت کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے وہ در حقیقت ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا بنیادی تعریف ہی مساوات اور سیکولرازم ہے اور یہ بل اس ملک کے بنیادی اصول کے منافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بل کو عین اسرائیل کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اسرائیل میں صرف یہودیوں کو ہی شہریت دی جاتی ہے اور ہندوتو کے ماننے والے لوگ اس ملک کو اسرائیل بنانا چاہتے ہیں۔

شہریت ترمیمی بل ’اسرائیل والی ذہنیت‘ کے تحت لایا گیا: اے ایم یو طلباء یونین

سلمان کے مطابق، اس بل سے ساورکر، ہیڈگوار، گولوالکر جیسے لوگوں کا خواب ہے جسے شرمندہ تعبیر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ملک میں نفرت پھیلاکر مہاتما گاندھی پر جنگ آزادی کے مجاہدوں کے خوابوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اس بل کا اصل مقصد ملک کو ایک بار پھر تقسیم کرنا ہے۔ یہ لوگ دہشت کی سیاست کر کے ہندوستان کی ترقی سے لوگوں کا ذہن بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کا پارلیمنٹ سے منظور ہونا ہندوستان کی تاریخ کے لئے اچھا نہیں ہے۔

سلمان امتیاز کے علاوہ عبد اللہ گرلز کالج کی صدر آفرین فاطمہ نے بھی اس بل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ آفرین نے کہا کہ اس بل سے مستقبل میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ نیز فرقہ پرستی کی ذہنیت ہندوستان کے مستقبل کو بگاڑ کر رکھ دیگی۔ اے ایم یو میں موجود ’رہائی منچ‘ سے وابستہ راجیو یادو نے بھی اس بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام امن پسند لوگ اس بل کی مخالفت میں اتریں۔

یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر شہزاد عالم برنی نے کہا، ’’سے اے بی ہندوستان کے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش ہے۔ یہ بل ساورکر کے ایجنڈے کو ذہن میں رکھتے ہوئے لایا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑا فریب ہوا ہے۔ مسلمان پوری طرح محب وطن ہیں لیکن انہیں اپنے ہی ملک میں بیگانا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ملک کی تمام سیکولر سیاسی جماعتوں کو اس بل کی مخالفت کرنی چاہئے اور امن پسند لوگوں کو سڑکوں پر اتر کر اس کی مخالفت کرنا چاہئے۔‘‘

Published: 10 Dec 2019, 8:30 PM