خدارا پُرامن احتجاج کیجیے ورنہ بی جے پی کے مزے... ظفر آغا

مذہبی قیادت، مساجد و مدارس اور خالص مسلم اجتماع سے پرہیز کیجیے، ایسا ہوا تو بی جے پی ہندو ’انگ رکشک‘ اور مسلمان ’ہندو دشمن‘ بن جائے گا اور بی جے پی کے مزے آ جائیں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

آخر 20 دسمبر کو بعد نماز جمعہ اتر پردیش جل اٹھا۔اس مضمون کے لکھے جانے تک اترپردیش سے 15 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ کانپور، جونپور، سہارنپور، فیروز آباد، غازی آباد، میرٹھ اور سنبھل جیسے نہ جانے کتنے شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ان شہروں کی جامع مساجد سے مسلم مجمع بطور ایک جلوس شہری قانون کے خلاف احتجاج کے لیے چلا۔ زیادہ تر شہروں سے یہ خبر آ رہی ہے کہ راستے میں اس مجمع میں سے کچھ افراد نے پہلے پتھراو شروع کیا اور پھر کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ پھر پولس کو موقع مل گیا اور اس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال شروع کر دیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پہلے ہی حکم دے رکھا تھا کہ ہنگامہ کرنے والوں کے ہاتھ پیر توڑ دو۔ پولس وہی اب کر رہی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں آج رات سے کل تک مسلم بستیوں میں پولس گھر گھر گھس کر مسلم نوجوانوں کو اٹھا کر لے گئی۔ لکھنؤ جہاں کل احتجاج ہوا تھا، وہاں یہ سلسلہ جاری ہے۔ اور شہر کے دو اہم سماجی کارکن جو کل لکھنو میں حراست میں لیے گئے تھے، ان کا ابھی تک کہیں کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

الغرض اتر پردیش میں جمعہ کی نماز کے بعد اتر ہردیش میں جو کچھ ہوا اس کا پیٹرن کچھ یوں ہے۔ مساجد سے مسلم مجمع احتجاج کے لیے نکلا، پھر اس مجمع میں سے کچھ افراد نے راستے میں قانون اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس کے بعد مسلم آبادیوں میں پولس کے قہر کی شروعات ہو گئی۔ پھر شام کو ٹی وی پر جو مباحثے ہوئے اس میں مسلم مجمع مسجدوں سے نکل کر ہنگامہ آرائی کرتا ہوا ہر ہندوستانی کو جان بوجھ کر دیکھایا گیا۔ جو بھی عام ہندو ان ٹی وی پروگرام کو دیکھ رہا ہوگا اس کا تاثر مسلمانوں کے بارے میں کیا بنے گا۔ ظاہر ہے کہ وہ خالص مسلم مجمع کو دیکھ کر چونکے گا۔ پھر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے جب وہ اس مجمع کو دیکھے گا تو اس کو مسلمانوں سے خوف اور ان کے خلاف غصہ پیدا ہوگا۔ پھر جب وہ پولس کو اس مجمع کی پٹائی کرتے دیکھے گا تو اس کا خیال یہ ہوگا کہ مسلمان اسی لائق ہیں اور ان کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہیے جو پولس کر رہی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ غلط تاثر ہوگا ۔ لیکن ٹی وی کے ذریعہ جان بوجھ کر یہی تاثر پیدا کیا جائے گا۔ یعنی اس پورے واقعہ کا ہندو سیاسی رد عمل وہی ہوگا جو گودھرا فسادات کے بعد ہوا تھا۔ یعنی مسلمانوں کو سبق سکھانے والی بی جے پی ہندو 'انگ رکشک' (محافظ) بن جائے گی اور جیسے گجرات میں نریندر مودی 'ہندو ہردے سمراٹ' بن گئے تھے ویسے ہی یوگی یو پی میں ہندو ہردے سمراٹ بن جائیں گے۔

اب آپ خود سوچیے، اتر پردیش میں 20 دسمبر کو جمعہ کی نماز کے بعد جو ہوا کیا وہ مسلم حق میں تھا! اس میں کوئی شک نہیں کہ شہری قانون کے خلاف سخت سے سخت احتجاج ہونا چاہیے۔ لیکن اس طرح نہیں جیسے چند افراد نے اس احتجاج کو لامعنی بنا دیا، ایک ذی عقل شخص کو فوراً یہ سمجھ میں آ جائے گا کہ اتر پردیش میں جو کچھ ہوا وہ مسلم مفاد میں نہیں، یوگی اور بی جے پی مفاد میں سو فیصد تھا۔ آخر یہ کون سا احتجاج کا طریقہ ہے کہ جس میں خود مسلمان اپنے پیروں پر کلہاڑی ماریں اور ان کے احتجاج سے فائدہ بی جے پی کا ہو۔ ظاہر ہے کہ جو مجمع ان جلوسوں میں شرکت کر رہا تھا اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا۔ لیکن اس مجمع میں کہیں سے سو پچاس شرپسند افراد مل جائیں یا ملا دیے جائیں اور وہ ہنگامہ آرائی شروع کر دیں تو اس کا خمیازہ پہلے پورے مجمع اور پھر پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ جیسا کہ نماز جمعہ کے بعد اتر پردیش میں ہوا۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر مسلمان کرے تو کرے کیا! ظاہر ہے کہ نیا شہری قانون ایک ایسا قانون ہے جس کا مقصد مسلمان کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔ اگر وہ اب احتجاج نہیں کرتا ہے تو پھر کب احتجاج کرے گا۔ یعنی وہ خاموش بھی نہیں بیٹھ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ احتجاج کرتا ہے تو خود اس کے بال و پر جھلس جاتے ہیں۔ اس لیے وہ کرے تو کرے کیا! اس کا طریقہ وہی ہے جو چند روز قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی دہلی یا پورے ملک میں 19 دسمبر کے شہری قانون مخالف احتجاج میں اپنایا گیا تھا۔ وہ کیا حکمت عملی تھی! وہ یہ تھی کہ احتجاج کسی مسلم پلیٹ فارم یا کسی مسجد جیسی مذہبی جگہ سے نہیں شروع ہوا۔ احتجاج کی کال کسی سیکولر سیاسی پارٹی یا سماجی کارکنان نے دی۔ مانگ شہری قانون ہٹاو اور آئین بچاو تھی۔ مجمع میں ہندو، مسلمان، جوان، بوڑھے، عورت، مرد سب شامل تھے۔ اس قسم کے ہندو-مسلمان متحد احتجاج سے حکومت ہل گئی۔ بی جے پی کو سخت نقصان پہنچا۔ ہندوستان ہی نہیں ساری دنیا میں مودی اور امت شاہ کی تھو تھو ہوئی۔ اب ذرا سوچیے آکسفورڈ اور ہارڈورڈ جیسی دنیا بھر کی 19 یونیورسیٹیوں میں جامعہ ملیہ کے طلبا کی حمایت میں جلوس نکالے۔ یہ ہوتا ہے اثر پرامن مظاہرہ کا۔

اب ذرا 19 دسمبر اور اس کے دوسرے روز بعد نماز جمعہ اتر پردیش میں ہونے والے دو دنوں کے احتجاج کا تجزیہ کرنے کے بعد مسلمانوں کے لیے کیا سبق ہے! یہی نہ کہ اگر جلوس مساجد سے نکلیں گے، جمعہ کی نماز کے بعد اس میں صرف مسلم مجمع اکٹھا ہوگا اور اکیلے مسلمان احتجاج کر رہے ہوں گے تو اس میں شرپسند عناصر مل جل کر احتجاج کو ہنگامے میں بدل دیں گے۔ بے چارے احتجاجی پہلے مارے جائیں گے پھر ٹی وی کے ذریعہ پور ی قوم بدنام کر دی جائے گی۔ اور ادھر ہندو ووٹ بینک متحد ہو کر بی جے پی کو اپنا انگ رکشک (محافظ) سمجھ کر پھر برسراقتدار اگلے صوبائی اور مرکزی اقتدار میں پہنچا دے گا۔ یعنی احتجاج کا فائدہ نہیں صرف نقصان ہوگا جیسا کہ بابری مسجد بچاؤ تحریک سے ہو تھا۔ ہندوستانی مسلمان کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے ساتھ ساتھ نئے شہری قانون کا دوسرا اہم مقصد یہی ہے کہ سماج میں ہندو-مسلم کھائی پیدا کر کے مسلم منافرت پر بی جے پی پھر چناو جیت سکے۔ اگر مسلمان اس جمعہ کی طرح کا احتجاج کرتا رہا تو پھر سمجھ لیجیے کہ وہ صرف دوسرے درجے کا شہری ہی نہیں بنے گا بلکہ وہ اس طرح بی جے پی کا کام آسان کر خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لے گا!

لیکن اس کنوئیں اور کھائی کی صورت حال کے درمیان وہ کرے تو کرے کیا! پہلی چیز اور سبق یہ ہے کہ شہری قانون کے خلاف کوئی بھی تحریک خالص مسلم پلیٹ فارم سے نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری بات ایسی تحریک کی قیادت خالص علما کو نہیں کرنی چاہیے۔ تیسری بات مساجد و مدارس ایسی تحریک کے مراکز نہیں ہونے چاہئیں۔ ایسی ہر تحریک میں ہندو سماجی کارکن اور سیکولر سیاسی پارٹیوں کی محض شرکت ہی نہیں بلکہ اس کی کمان بھی انہی کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عام ہندو کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو کہ مسلمان مظلوم ہے تاکہ اس کے دلوں میں اس کے لئے ہمدردی پیدا ہو، بی جے پی کی حکمت عملی یہ ہے کہ ٹی وی پر مسلم ہنگامہ آرائی جھوٹ یا سچ دیکھا کر مسلمان کو ظالم کی امیج دے دے۔ یہ مسلم مفاد میں قطعاً نہیں ہے۔

آزاد ہندوستان کے مسلمان کے لیے یہ انتہائی سخت امتحان کا وقت ہے۔ اس وقت اگر جذبات سے کام ہوا تو بس سمجھ لیجیے کہ آگے صرف جہنم ہے۔ سیاسی قیادت بہت سوجھ بوجھ کا کام ہے۔ وہ بابری مسجد کا معاملہ رہا ہو یا پھر طلاق ثلاثہ کا مسئلہ، علماء اور مذہبی رنگ کی مسلم قیادت بالکل ناکام اور بے سود ثابت ہوئی۔ اس لیے ایسی قیادت سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہر مسلم بستی میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے ایک گروہ کو فوراً آگے آنا چاہیے اور اس تحریک پر پوری نگاہ رکھتے ہوئے سماجی کارکنان اور شہر کی سیکولر پارٹیوں کے ساتھ فوراً تال میل پیدا کرنا چاہیے۔ یہ تحریک ہندووں کی حمایت کے ساتھ ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔ خوش قسمتی ہی ہے کہ اب بھی سیکولر ہندوستان کی بقا کے لیے کروڑوں ہندو جدوجہد کرنے کو تیار ہیں۔ آپ بھی انہی کے کاندھے سے کاندھا ملا کر جدوجہد کریں۔ خدارا مذہبی قیادت، مساجد و مدارس جیسے مذہبی مقامات اور خالص مسلم اجتماع سے پرہیز کیجیے۔ فوراً اسی طرح بی جے پی ہندو انگ رکشک اور مسلمان ہندو دشمن بن جائے گا اور بی جے پی کے مزے آ جائیں گے۔ اس لیے کم از کم اب جوش نہیں، ہوش سے کام لیجیے اور بابری مسجد تحریک جیسی کوئی غلطی نہ کیجیے۔

Published: 22 Dec 2019, 9:00 AM