وادی کشمیر: نامساعد حالات کے باعث سگریٹ و تمباکو نوشی میں غیر معمولی اضافہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڑتال، مواصلاتی خدمات پر پابندی اور دیگر قدغنوں کی وجہ سے اہلیان وادی نفسیاتی پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

وادی کشمیر میں گزشتہ زائد از ڈیڑھ ماہ سے جاری ہڑتال، مواصلاتی پابندی اور دیگر قدغنوں کے باعث سگریٹ و تمباکو نوشی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ عوامی مقامات بالخصوص ہسپتالوں کے احاطوں میں سگریٹ نوشی پر تقریباً بریک لگ چکا تھا، لیکن 5 اگست کو دفعہ 370 کے ہٹنے کے بعد اب ان مقامات پر بھی لوگوں کو کھلے عام سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڑتال، مواصلاتی خدمات پر پابندی اور دیگر قدغنوں کی وجہ سے اہلیان وادی نفسیاتی پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ بدقسمتی سے لوگ پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ورزش کے بجائے سگریٹ و تمباکو نوشی کرتے ہیں جو کسی بھی لحاظ انسانی صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔


وادی میں اس وقت لوگوں کو سڑکوں، گلی کوچوں اور خاص طور پر بند دکانوں کے تھڑوں پر سگریٹ و تمباکو نوشی کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔ ہسپتالوں کے احاطوں، مین بازاروں اور پبلک پارکوں میں سگریٹ پینا تقریباً بند ہوگیا تھا لیکن اب یہ جگہیں 'نو سموکنگ زون' نہیں رہی ہیں کیونکہ 5 اگست کے بعد ان جگہوں پر سگریٹ کے عادی افراد کو کھلے عام سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔

سری نگر کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے ملازم نے نام نہ ظاہر کرنے کی خوہش ظاہر کرتے ہوئے یو این آئی اردو کو بتایا کہ سگریٹ کے عادی افراد ہسپتال کے احاطے میں سگریٹ پینے سے گریز کرتے تھے لیکن 5 اگست کے بعد سے ہسپتال کے احاطے میں کھلے عام سگریٹ نوشی ہورہی ہے۔


انہوں نے بتایا: 'جو لوگ ہسپتال آتے ہیں وہ پریشان ہوتے ہیں۔ موبائل فون سروسز بند رہنے کی وجہ سے وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کرپاتے ہیں۔ وہ غصے میں بھی ہوتے ہیں۔ وہ جب ہسپتال کے احاطے میں سگریٹ پیتے ہیں تو ہم موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں'۔

ہسپتال ھٰذا کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ بے شک مواصلاتی خدمات کی معطلی اور ہڑتال کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیاں درپیش ہیں لیکن سگریٹ نوشی اس کا حل نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'لوگ پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کے لئے جسمانی ورزش کرسکتے ہیں۔ ہیلتھ سنٹر جاسکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کی وجہ سے انسانی جسم کو بہت نقصان پہنچتا ہے، اس نقصان کی برپائی ناممکن ہے'۔


بتادیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو اٹھائے گئے اقدامات جن کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹائی گئی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنایا گیا کے بعد سے وادی کشمیر میں معمول کی زندگی معطل ہے۔ ہر طرح کی انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات منقطع ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 22 Sep 2019, 7:10 AM