چراغ پاسوان اپنے چچا پارس کے خلاف الیکشن کمیشن پہنچے، انتخابی نشان پر دعویداری

لوک جن شکتی پارٹی (چراغ گروپ) کے سربراہ چراغ پاسوان نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی نشان ’بنگلہ‘ ان کی پارٹی کا ہے۔

چراغ پاسوان، تصویر یو این آئی
چراغ پاسوان، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

لوک جن شکتی پارٹی (چراغ گروپ) کے سربراہ چراغ پاسوان اپنے چچا پارس کے خلاف الیکشن کمیشن پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی نشان ’بنگلہ‘ ان کی پارٹی کا ہے۔ چراغ کی یہ کارروائی بہار کے کشیشور استھان (دربھنگہ) اور تاراپور (مونگیر) اسمبلی سیٹوں پر 30 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے مدنظر دیکھنے کو ملی ہے۔

چراغ گروپ کے قومی ترجمان اے کے واجپئی نے کہا کہ ’’ہم نے انتخابی کمیشن کو ایک خط لکھا ہے اور پارس گروپ کے دعوے کو خارج کرنے کے لیے کہا ہے جو ایک ہی نشان کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پارس گروپ کا دعویٰ آنجہانی رام ولاس پاسوان کی پارٹی سے متعلق داخلی آئینی کے مطابق غیر قانونی تھا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں الیکشن کمیشن ضمنی انتخاب کے لیے نامزدگی کی تاریخوں سے پہلے اپنا رخ واضح کرے۔‘‘


2020 کے اسمبلی انتخاب میں چراغ پاسوان نے بغیر کسی کے ساتھ اتحاد کیے الیکشن لڑنے کے مقصد سے این ڈی اے سے رشتہ منقطع کر لیا تھا، لیکن پارٹی کو صرف ایک ہی سیٹ پر کامیابی ملی اور جیتنے والا امیدوار بھی جلد ہی جنتا دل یو میں شامل ہو گیا۔ چراغ پاسوان کو پارٹی کی خراب کارکردگی کے لیے قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، اور اس سے ان کے اور چچا پشوپتی کمار پارس کے درمیان ایک دوری پیدا کر دی، جس نے بالآخر پارٹی کو تقسیم کر دیا اور خود کو ایل جے پی سربراہ بھی قرار دے دیا۔ چراغ پاسوان اب پارس گروپ کے ساتھ اپنی ساکھ بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اس لیے پول پینل کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔