کورونا کا ’آسان شکار‘ بن رہے ہیں بچے، بے توجہی خطرناک

’سیو دی چلڈرن‘ ادارہ سے منسلک آنندت رائے چودھری کا کہنا ہے کہ ”ہم لگاتار کہہ رہے ہیں کہ کورونا وائرس بچوں کے لیے کم خطرناک ہے۔ ایسا کہہ کر کہیں نہ کہیں ہم بچوں کے تئیں خطرے کو بڑھا رہے ہیں۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے ہندوستان میں اب تک 2549 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور کچھ لوگ اس طرف کم ہی دھیان دے رہے ہیں کہ ان مہلوکین میں بچوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ اس طرح کی خبریں کئی بار سامنے آ چکی ہیں کہ بچوں پر کورونا انفیکشن کا خطرہ کم ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ اب تک اس وائرس سے ہلاک ہوئے بچوں کی تعداد بڑوں کے مقابلے کم ضرور ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد بھی کم ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک کورونا انفیکشن کی زد میں آنے والے ہندوستانیوں میں تقریباً 8.6 فیصد ایسے مریض ہیں جن کی عمر 20 سال سے کم ہے۔ یعنی بڑی تعداد میں بچے بھی کورونا کی زد میں آئے ہیں۔ خصوصی طور پر غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے اور چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشن میں رہنے والے بچے تیزی کے ساتھ کورونا انفیکشن کی زد میں آ رہے ہیں۔ ایک طرح سے یہ بچے کورونا کا 'آسان شکار' بن رہے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ اگر بے توجہی جاری رہی تو حالات خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل 'نیوز18' میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں کورونا وائرس کا اثر سب سے زیادہ ہے اور میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ڈرگس ڈپارٹمنٹ نے گزشتہ 12 مئی کو بتایا کہ ریاست میں 10 سال سے کم عمر کے تقریباً 770 بچے کورونا کی زد میں ہیں۔ علاوہ ازیں 10 سے 20 سال کی عمر کے 1579 بچے کورونا پازیٹو ہیں۔ راجستھان، دہلی، مدھیہ پردیش، تلنگانہ میں بھی بچے کورونا کی زد میں آ رہے ہیں اور کئی بچوں کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔

بچوں میں کورونا انفیکشن پھیلنے سے متفکر 'سیو دی چلڈرن' ادارہ سے منسلک آنندت رائے چودھری کا کہنا ہے کہ "ہم لگاتار کہہ رہے ہیں کہ کورونا وائرس بچوں کے لیے کم خطرناک ہے، اور اس سوچ کی وجہ سے پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ کہیں نہ کہیں ہم ایسا کہہ کر بچوں کے تئیں خطرے کو بڑھا رہے ہیں۔" وہ مزید کہتے ہیں کہ "سچائی یہ ہے کہ کووڈ-19 کمزور قوت مدافعت والوں پر جلدی اثر کرتا ہے اور جو بچے عدم غذائیت کا شکار ہیں یا حساس ہیں، وہ بھی اس کی زد میں جلدی آتے ہیں۔ بدقسمتی سے محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے یا یتیم بچوں میں یہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر کورونا انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔"

قابل ذکر یہ بھی ہے کہ جوینائل جسٹس کیئر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرن ایکٹ کے مطابق ریاست کی دیکھ ریکھ میں صرف یتیم بچے نہیں رہتے بلکہ وہ بھی رہتے ہیں جن کے والدین غریبی کی وجہ سے ان کی اچھی پرورش نہیں کر پاتے۔ سال 2019 میں آئی جینا کمیٹی رپورٹ کے مطابق ملک میں چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشن یعنی سی سی آئی میں تقریباً 1.80 لاکھ بچے رہتے ہیں۔ مارچ میں جب ہندوستان میں کورونا کا قہر بڑھا تو ان میں سے کئی بچوں کو ان کے گھر لوٹنے کا حکم دیا گیا۔ سی سی آئی کے بانی نیوٹن بتاتے ہیں کہ ان کے ادارہ سے تقریباً 90 فیصد بچے گھر لوٹ گئے ہیں۔

نیوٹن نے گھر لوٹ گئے بچوں کے تعلق سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان سے رابطہ کیا گیا تو زیادہ تر بچوں نے گھر پر ٹھیک سے کھانا نہیں ملنے کی بات کہی۔ ایسے ماحول میں عدم غذائیت کا مسئلہ پیدا ہونا فطری ہے۔ سی سی آئی کی مدد کرنے والے این جی او میریکل فاؤنڈیشن کی سربراہ (ہندوستان) نویدیتا داس گپتا کہتی ہیں کہ ایسے بچوں کے والدین دہاڑی مزدور ہیں اور ان کے سامنے تو خود کھانے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، پھر وہ بچوں کو کس طرح کھلائیں گے۔ اپنی مجبوری کی وجہ سے ہی وہ بچوں کو سی سی آئی جیسے اداروں میں ڈال دیتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ بچے کسی بھی طرح کی آفت میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ سماج میں ان کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کرے۔ کورونا انفیکشن کے بڑھتے کیسز کے درمیان بچوں کی دیکھ بھال کرنا بھی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ بچوں میں قوت مدافعت بزرگوں کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے، لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عدم غذائیت، معذور اور مختلف جسمانی مسائل کے شکار بچے کورونا انفیکشن کی زد میں بہت آسانی کے ساتھ آ سکتے ہیں۔ غریب اور محروم طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچے تو ویسے بھی صاف، صفائی اور سینیٹائزر کے استعمال سے دور ہی رہتے ہیں۔

next