کرتارپور راہداری کھولنے کے فیصلے پر وزیر اعلیٰ چنّی اور دوسرے لیڈروں کا اظہار تشکر

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور دیگر لیڈروں نے گرو نانک جینتی پر کرتارپور راہداری کھولنے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے تئیں شکریے کا اظہار کیا۔

کرتارپور راہداری، تصویر آئی اے این ایس
کرتارپور راہداری، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی/چنڈی گڑھ: مرکزی حکومت نے سکھ عقیدت مندوں کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان واقع گرودوارا کرتا پور صاحب کے لیے راہداری کو پھر سے کھولنے کا اعلان کیا۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنّی اور دیگ لیڈران نے گرونانک دیو جی کے 552 ویں پرکاش اتسو کے پہلے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

چنی نے یہ بھی کہا کہ وہ وہاں جانے والے پہلے جتھے میں شامل ہوں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو ٹوئٹ کرکے بتایا کہ سکھ یاتریوں کے وسیع تر فائدہ کے لیے حکومت نے کرتار پور راہداری کو 17 نومبر سے ازسرنو کھولنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے واضح ہے کہ مودی حکومت گرونانک دیو جی میں بے پناہ عقیدت سکھ طبقے کے تئیں بے انتہا ہمدردی رکھتی ہے۔


پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور دیگر لیڈروں نے گرو نانک جینتی پر کرتارپور راہداری کھولنے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے تئیں شکریے کا اظہار کیا۔ چنڈی گڑھ میں جاری ایک بیان میں کیپٹن سنگھ نے کہا کہ کووڈ وبا کے سبب گزشتہ سال سے بند راہداری کو کھولنے کا مطالبہ لاکھوں گرو نانک کے عقیدت مند کر رہے تھے۔ راہداری گرونانک جینتی (19 نومبر) سے دو دن پہلے یعنی کل (بدھ، 17 نومبر) سے کھولی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ راہداری کھولنے کے لیے اس سے بہتر موقع نہیں ہوسکتا تھا، کیوں کہ ہزاروں عقیدت مند جینتی کے دن کرتار پور گرودوارا جاسکیں گے۔

مرکزی حکومت نے گرونانک دیو جی کے 552ویں پرکاش اتسو کے پہلے کرتار پور صاحب جانے کا راستہ پھر سے کھولنے کا فیصلہ لیا ہے۔ کرتار پور صاحب کی زیارت اور دعا کے لیے یہ راستہ پاکستان کے ساتھ ایک رضامندی کی بنیاد پر 9 نومبر 2019 کو شروع کیا گیا تھا۔ کووڈ-19 کے سبب اس کو بند کر دیا گیا تھا۔


گرو پرب کے موقع پر سکھ برادریوں کی جانب سے کرتار پور کوریڈور کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پنجاب یونٹ کے رہنماوں کے ایک وفد نے اتوار کو یہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے کرتار پور کوریڈور کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ شاہ نے راہداری کو پھر سے کھولنے اور کے کام میں تیزی لانے کے لیے افسران کے ساتھ جائزہ میٹنگز کی تھیں۔

اس سے قبل بھی حکومت نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ گرو نانک دیو کے یوم پیدائش کے موقع پر 17 سے 26 نومبر کے درمیان تقریباً 1500 سکھ یاتریوں کا ایک گروپ پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ گروپ پاکستان میں چھ مقدس گردواروں دربار صاحب، سری پنجہ صاحب، ڈیرہ صاحب، سری ننکانہ صاحب، سری کرتارپور صاحب اور گردوارہ سری سچا سودا کا دورہ کرے گا۔


پاکستان نے چند روز قبل کرتار پور راہداری کھولنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ حالانکہ حکومت پاکستان نے حکومت ہند کی درخواست پر اس سال جون میں سکھ یاتریوں کو دو مواقع گرو راجن دیو جی کے یوم قربانی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی پر یاترا کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ دورے 1974 کے دو طرفہ پروٹوکول کے تحت ہونے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔