آٹھ ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس مقرر، پانچ کا تبادلہ

صدر رام ناتھ کووند نے چیف جسٹس این وی رمنا کے مشورے پر آٹھ ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کی تقرری اور پانچ چیف جسٹسوں کے تبادلے کی منظوری دے دی ہے

رام ناتھ کووند، تصویر آئی اے این ایس
رام ناتھ کووند، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: صدر رام ناتھ کووند نے چیف جسٹس این وی رمنا کے مشورے پر آٹھ ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کی تقرری اور پانچ چیف جسٹسوں کے تبادلے کی منظوری دے دی ہے۔

ہفتہ کو محکمہ انصاف ، وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ، کلکتہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس راجیش بندل کو الہ آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس ستیش چندر شرما کو تلنگانہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس پرکاش شریواستو کو کلکتہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔


قانون اور انصاف کی وزارت کے ذریعہ سنیچر کے روز جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ، کلکتہ ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس راجیش بندل کو الہ آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس ستیش چندر شرما کو تلنگانہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس پرکاش شریواستو کو کلکتہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔

ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس آر وی مالیمتھ کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ریتو راج اوستھی کو کرناٹک ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس اروند کمار کو گجرات ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ، چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے جج پرشانت کمار مشرا کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اور میگھالیہ ہائی کورٹ کے جسٹس رنجیت وی مورےکو اسی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا ہے۔


نوٹیفکیشن کے مطابق تریپورہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اے اے قریشی کو راجستھان ہائی کورٹ اور راجستھان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اندرجیت مہنتی کو تریپورہ ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد رفیق کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ ، میگھالیہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وشوناتھ سومدار کو سکم ہائی کورٹ اور آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اے کے گوسوامی کو چھتیس گڑھ ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔