تھانوں میں انسانی حقوق کو سب سے زیادہ خطرہ: چیف جسٹس رمنا

ملک کا پسماندہ طبقہ نظام عدل کے دائرے سے باہر ہے۔ اگر عدلیہ کو غریب اور پسماندہ طبقے کا اعتماد جیتنا ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ان کے لیے آسانی سے دستیاب ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

"تھانہ انسانی حقوق اور انسانی احترام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے"۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا نے یہ بات کل نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (نالسا) کے موبائل ایپ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جسمانی تشدد کا سب سے زیادہ خطرہ تھانوں میں ہوتا ہے۔ تھانوں میں گرفتار یا حراست میں لیے گئے افراد کو موثر قانونی امداد نہیں مل پا رہی ہے جبکہ اس کی اشد ضرورت ہے۔


ملک بھر کے تھانوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس رمنا نے کہا کہ "حراستی تشدد سمیت پولیس کے دیگر مظالم وہ مسائل ہیں جو اب بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ آئینی التزامات اور ضمانتوں کے باوجود گرفتار یا حراست میں لیے گئے افراد کو موثر قانونی مدد نہیں مل پاتی ہے، جو ان کے لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا پسماندہ طبقہ نظام عدل کے دائرے سے باہر ہے۔ اگر عدلیہ کو غریب اور پسماندہ طبقے کا اعتماد جیتنا ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ان کے لیے آسانی سے دستیاب ہے۔


انہوں نے کہا کہ لوگوں کو قانونی مدد کے آئینی حق اور پولس کے مظالم کو روکنے کے لیے مفت قانونی امداد کی فراہمی کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے وسیع تشہیر ضروری ہے۔ اس موقع پر نالسا کے کارگزار صدر اور ساتھی جج اودے امیش للت بھی موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔