پی چدمبرم کی عدالتی تحویل کی مدت میں تین اکتوبر تک توسیع

کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم کو آئی این ایکس میڈیا بدعنوانی معاملے میں آج بھی راحت نہیں ملی اور ان کی عدالتی تحویل کی مدت میں 3اکتوبر تک کے لئے توسیع کر دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم کو آئی این ایکس میڈیا بدعنوانی معاملے میں آج بھی راحت نہیں ملی اور ان کی عدالتی تحویل کی مدت میں 3اکتوبر تک کے لئے توسیع کر دی۔

آئی این ایکس میڈیا معاملے میں گرفتار چدمبرم کو 14دن کی عدالتی حراست کی مدت مکمل ہونے کے بعد آج راوز ایونیو میں واقع خصوصی جج اجے کمار کوہار کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے عدالت سے چدمبرم کی عدالتی تحویل کی مدت میں توسیع کرنے کی درخواست کی جب کہ چدمبرم کے وکیل کپل سبل نے اس کی مخالفت کی۔

تفتیشی ایجنسی کی طرف سے سالسٹر جنرل توشار مہتا نے چدمبرم کی عدالتی حراست میں اضافہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے عدالت کے سامنے کہا کہ انہیں جب پہلی مرتبہ جیل بھیجا گیا تھا تب سے حالات میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

جج کوہار نے چدمبرم کی عدالتی تحویل کی مدت میں توسیع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے میڈیکل جانچ کی اجازت دے دی۔ سبل نے چدمبرم کی طرف سے معمول کی طبی جانچ اور تہاڑ جیل میں عدالتی حراست کے دوران خاطر خواہ ضروری کھانا فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

آئی این ایکس میڈیا معاملے میں دہلی ہائی کورٹ سے پیشگی ضمانت کی عرضی مسترد ہوجانے کے بعد سی بی آئی نے چدمبرم کو21 اگست کی رات کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں 22اگست کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے چدمبرم کو پہلے 26 اگست تک سی بی آئی کی حراست میں بھیجا۔ اس کے بعد اسے 30 اگست او ربعد میں بڑھا کر پانچ ستمبر کیا گیا تھا۔ پانچ ستمبر کو چدمبرم کو 14دنوں کی عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

یہ معاملہ آئی این ایکس میڈیا کو غیر ملکی سرمایہ کاری پروموشن بورڈ سے 305 کروڑ روپے سے متعلق ہے۔ چدمبرم اس وقت من موہن سنگھ حکومت میں وزیر خزانہ تھے اور ان پر الزام ہے کہ بورڈ سے منظوری دلانے میں بے ضابطگی برتی گئی۔ اس معاملے میں چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم بھی ملزم ہیں۔ کارتی فی الحال ضمانت پر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 19 Sep 2019, 11:10 PM